Al-Qurtubi - Al-Haaqqa : 18
یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ
يَوْمَئِذٍ : اس دن تُعْرَضُوْنَ : تم پیش کیے جاؤ گے لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ : نہ چھپ سکے گی تم سے خَافِيَةٌ : چھپنے والی۔ کوئی راز
اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی
لاتخفی منکم خافیۃ۔ وہ تمہارے اعمال میں سے ہر عمل کو جانتا ہے اس تعبیر کی بنا پر خافیۃ خفیہ کے معین میں ہے وہ اپنے اعمال چھپایا کرتے تھے، یہ ابن شجرہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کوئی انسان اس پر مخفی نہیں رہے گا یعنی کوئی انسان باقی نہیں رہے گا جس کا محاسبہ نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا، مومن کافر سے اور نیک فاجر سے مخفی نہیں رہے گا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہاری شرمگاہیں پردہ میں نہ ہوں گی۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” لوگ ننگے پائوں اور ننگے بدن اٹھائے جائیں گے۔ “ (4) عاصم کے علاوہ کو فیوں نے لایخفی پڑھا ہے کیونکہ خافیۃ کی تانیث غیر حقیقی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واخذ الدین ظلموا الصیحۃ (ہود : 67) ابوعبیدہ نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ فعل اور اسم مونث کے درمیان جار اور مجور حائل ہے۔ باقی قراء نے تاء کے ساتھ اسے پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے اسے خافیۃ کی تانیث کی وجہ سے اسے اختیار کیا ہے۔
Top