Urwatul-Wusqaa - Al-Haaqqa : 18
یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ
يَوْمَئِذٍ : اس دن تُعْرَضُوْنَ : تم پیش کیے جاؤ گے لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ : نہ چھپ سکے گی تم سے خَافِيَةٌ : چھپنے والی۔ کوئی راز
اس دن تم (اللہ کے سامنے) حاضر کیے جاؤ گے ، تمہاری کوئی بات بھی چھپی نہ رہے گی
اس دن تم اللہ کے سامنے حاضر کئے جائو گے ، تمہاری کوئی بات چھپی نہیں رہے گی 18 ؎ گزشتہ سارے استعارات و اشارات کا ماحصل بیان کیا جا رہا ہے کہ اس نظام کو درہم برہم کرنے کے بعد جب نیا نظام قائم کیا جائے گا اور وہ نظام اس نظام سے بہت بڑا اور بہت ہی مضبوط نظام ہوگا اور تم سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور دنیاوی زندگی میں تم نے جو کچھ کیا ہوگا وہ سب کا سب تمہارے سامنے پیش کردیا جائے گا اور تمہاری کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں رہے گی اور جو کچھ تم کرنے کے بعد بھول چکے ہو گے اور جو کچھ تمہاری یادداشت میں موجود ہوگا وہ سب کا سب تمہارے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ گویا جس وقت تم جہاں رہ کر بھی کوئی حرکت کر رہے تھے وہ ساری حرکات و سکنات تمہاری آنکھوں کے سامنے پیش کردی جائیں گی اور کوئی بات بھی مبہم اور غیر واضح نہیں ہوگی۔ زیر نظر آیت نے گزشتہ ساری آیات کریمات اور سارے اشارات و استعارات کی حقیقت کو تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیا اور اس بات کی خبر دے دی کہ اس زندگی میں تم نے بہت موج و بہار دیکھی لیکن اس ساری موج و بہار کا ستیاناس ہوجائے گا اگر تم آخرت کی زندگی میں فیل ہوگئے۔ (خافیۃ) کی اصل خی ہے اور یہ لفظ بعینہٖ قرآن کریم میں ایک ہی بار آیا ہے۔ چھپنے والی ، پوشیدہ ہونے والی ، راز اور بھید کی بات۔ اسم فاعل کا صیغہ اور مؤنث ہے۔ تمہاری ساری چھپی ہوئی اور راز داری میں کی ہوئی باتیں تمہارے سامنے کھول کر رکھ دی جائیں گی۔ اسی سے اشارہ نکل آیا کہ انسان کا سارا کیا کرایا اس کائنات کے اندر محفوظ ہے اور پھر ظاہر ہے کہ جب قرآن کریم نے اس کی حفاظت اور اس کے محفوظ ہونے کو واضح کردیا تو اب اگر انسان اس کوشش میں لگ جائے کہ وہ کس طرح محفوظ ہے اور کس طرح اس کو قابو میں لایا جاسکتا ہے تو یہ سو فیصد ممکن ہے اور اس سے اس آنے والے وقت کے لئے زبردست شہادت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے اور ایمان باللہ اور مضبوط ہو سکتا ہے بشرطیکہ کوئی اس ذہن کے ساتھ اس کی جستجو کرے۔
Top