Dure-Mansoor - Al-Haaqqa : 18
یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ
يَوْمَئِذٍ : اس دن تُعْرَضُوْنَ : تم پیش کیے جاؤ گے لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ : نہ چھپ سکے گی تم سے خَافِيَةٌ : چھپنے والی۔ کوئی راز
جس روز تم پیش کیے جاؤ گے تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ ہوگی
21۔ عبد الرزاق اور ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یومئذ تعرضون جس دن تم پیش کیے جاؤ یعنی تم تین مرتبہ پیش کیے جاؤ گے دو پیشیوں میں تو خصومت اور جھگڑا ہوگا اور تیسری پیشی کے وقت اعمال نامہ اڑا کر ہاتھوں میں دے دیا جائے گا۔ 22۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یومئذ تعرضون لا تخفی منکم خافیۃ اس دن تم پیش کیے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ حرکت بھی چھپی نہیں رہے گی۔ ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ قیامت کے دن تین مرتبہ پیش ہوں گے۔ پس دو پیشیوں میں تو خصومات عذر اور جھگڑے ہوں گے اور تیسری پیشی میں نامہ اعمال اڑ کر ہاتھوں میں آجائے گا اے اللہ ! ہم کو ان لوگوں میں بنادے جن کو داہنے ہاتھوں میں اعمال نامے ملیں گے۔ راوی نے کہا کہ بعض اہل علم یوں کہتے تھے کہ میں نے عقل مند لوگوں میں اس کو پایا جو جس نے کہا آیت ھاء م اقرء و اکتبیہ انی ظننت انی ملق حسابیہ۔ لو میر اعمال نامہ پڑھ لو بےمجھے یقین تھا کہ مجھے میرے اعمال کا حساب پیش آئے گا۔ یعنی اس نے یقین اگمان کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے گمان کے مطابق نفع عطا فرمایا۔ راوی نے کہا اور ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے : جو شخص طاقت رکھتا ہو کہ وہ اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو تو اس کو چاہیے ایسا کرے۔ روایت غیر مسند ہے۔ 23۔ احمد وعبد بن حمید والترمذی وابن ماجہ وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کیے جاءٰں گے دو پیشیوں میں جھگڑے اور عذر ہوں گے اور تیسری پیشی میں اعمال نامے اڑ کر ہاتھوں میں آجائیں گے۔ وہ کسی کے داہنے ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں آئے گا۔ 24۔ ابن مردویہ نے دوسری سند سے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آیت یومئذ تعرضون لاتخفی منکم خافیۃ سے مراد ہے کہ دو پیشیوں میں خصومت اور جھگڑے ہوں گے اور تیسری پیشی میں اعمال نامے اڑ کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے۔ 25۔ ابن جریر والبیہقی نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین مرتبہ پیش کیا جائے گا دو پیشیوں میں جھگڑے اور عذر ہوں گے اور تیسی پیش میں اعمال نامے اڑ کر دائیں اور بائیں ہاتھوں میں آجائیں گے۔ 26۔ ابن المبار نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ تم اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے کیونکہ وہ تمہارے حساب کو آسان بنادے گا اور اپنے آپ کا وز کرلو پہلے اس سے کہ تمہارا وزن کیا جائے اور بڑی پیشی کے لیے اپنے آپ کو تیار کرو۔ اسی کو فرمایا آیت یومئذن تعرضون لاتخفی منکم خافیہ۔
Top