Tafseer-e-Mazhari - Al-Haaqqa : 18
یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ
يَوْمَئِذٍ : اس دن تُعْرَضُوْنَ : تم پیش کیے جاؤ گے لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ : نہ چھپ سکے گی تم سے خَافِيَةٌ : چھپنے والی۔ کوئی راز
اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی
یومئذ تعرضون . (تمام آدمیوں کو خطاب ہے) یعنی اے انسانو ! اس روز حساب کے لیے اللہ کے سامنے تمہیں جانا ہوگا۔ یہ پیشی نفخۂ بعث کے بعد ہوگی۔ لا تخفی منکم خافیۃ . تمہاری کوئی پوشیدہ حرکت بھی چھپی نہیں رہے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی۔ دو پیشیاں تو جھگڑا کرنے اور معذرتوں کے لیے ہوں گی اور تیسری پیشی کے وقت اعمالنامے ہاتھوں میں نمودار ہوجائیں گے۔ کوئی دائیں ہاتھ میں لینے والا ہوگا ‘ کوئی بائیں ہاتھ میں۔ (ترمذی بروایت حضرت ابوہریرہ و ابن ماجہ بروایت حضرت ابو موسیٰ اشعری و بیہقی بروایت حضرت ابن مسعود) حکیم ترمذی نے یہ بھی کہا ہے کہ جھگڑا کرنے کے لیے پیشی دشمنوں کی ہوگی وہ رب کو نہیں پہچانیں گے اس لیے خیال کریں گے کہ رب سے جھگڑا کر کے ان کو نجات مل جائے گی اور بات بن جائے گی یہ سوچ کر وہ اللہ سے جھگڑیں گے اور معذرت کے لیے پیشی اللہ کی طرف سے ہوگی۔ آدم اور دوسرے انبیاء کے سامنے اللہ دشمنوں کے خلاف اتمام حجت فرما دے گا اور (تمام معذرتوں کے بعد) اعداء کو دوزخ میں بھیج دے گا اور تیسری پیشی اہل ایمان کی ہوگی مگر اللہ تنہائی میں ان پر اس حد تک عتاب فرمائے گا کہ ان کو شرم آجائے پھر ان کی مغفرت فرما دے گا اور ان سے راضی ہوجائے گا۔
Top