Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہم نے تم کو بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰـکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّـکُمْ اِلَیْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ ۔ (المومنون : 115) (تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہم نے تم کو بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے۔ ) عَبَثًا … عبث کا معنی ہوتا ہے، فضول یعنی بےمقصد۔ (2) کھیل۔ انسان کی کو تاہی فکر اور اس کا نتیجہ چونکہ عَبَثًا استعمال ہوا ہے۔ ترکیب کے اعتبار سے ہم اس کا ترجمہ کھیل کے طور پر بھی کرسکتے ہیں اور کھیل کے لیے بھی۔ پہلے ترجمہ کے اعتبار سے مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے تمہیں یونہی بطور تفریح پیدا کردیا تھا، تمہاری تخلیق کا کوئی مقصد اور کوئی غرض وغایت نہیں تھی اور دوسرے ترجمے کے اعتبار سے مطلب یہ ہوگا کہ تم محض اس لیے پیدا کیے گئے ہو کہ کھیلو، کودو، عیش و عشرت میں وقت گزارو، لاحاصل مصروفیات میں لگے رہو، تمہاری زندگی کا کوئی مقصد نہیں جس کے بارے میں کل کو تم سے سوال کیا جائے۔ چناچہ ان ہی تصورات کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان عاقبت اور آخرت سے لاپرواہ ہوگیا۔ اس نے یہ گمان کرلیا کہ مجھے چونکہ محض ایک کھیل کے طور پر یا کھیل کود کے لیے پیدا کیا گیا ہے جس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، میں ایک ایسا شتر بےمہار ہوں جسے ہر جگہ گھومنے پھرنے کی آزادی حاصل ہے اور اس کے سپرد کوئی ذمہ داری نہیں۔ میں جو چاہوں کروں، میرے اعمال کی کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایسا سوچنے والا شخص کبھی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کے جانا ہے اور وہاں اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے۔
Top