Madarik-ut-Tanzil - Al-Ahzaab : 3
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : وہ جو يَكْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں بِاٰيٰتِ : آیتوں کا اللّٰهِ : اللہ وَيَقْتُلُوْنَ : اور قتل کرتے ہیں النَّبِيّٖنَ : نبیوں کو بِغَيْرِ حَقٍّ : ناحق وَّيَقْتُلُوْنَ : اور قتل کرتے ہیں الَّذِيْنَ : جو لوگ يَاْمُرُوْنَ : حکم کرتے ہیں بِالْقِسْطِ : انصاف کا مِنَ النَّاسِ : لوگوں سے فَبَشِّرْھُمْ : سو انہیں خوشخبری دیں بِعَذَابٍ : عذاب اَلِيْمٍ : دردناک
جھوٹ افترا تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں۔
دوسرا جواب : 105: اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ (بیشک اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنے والے وہ لوگ ہیں) الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ (جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے) یعنی افتراء تو ان لوگوں کا طرز و طریق ہے۔ جن میں ایمان نہیں۔ کیونکہ وہ اس پر سزا کے قائل نہیں۔ اس میں اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرکی تردید ہے۔ وَاُولٰٓپکَ (وہ) سے لَا یُؤْمِنُوْنَ کی طرف اشارہ ہے۔ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ (وہی جھوٹے ہیں) فی الحقیقت اور کذب میں کمال درجہ حاصل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب عظیم ترین جھوٹ ہے۔ نمبر 2۔ وہ انماانت مفتر کہنے میں جھوٹے ہیں۔
Top