Mafhoom-ul-Quran - An-Nahl : 35
وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور جن لوگوں نے تَبَوَّؤُ : انہوں نے قرار پکڑا الدَّارَ : اس گھر وَالْاِيْمَانَ : اور ایمان مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے يُحِبُّوْنَ : وہ محبت کرتے ہیں مَنْ هَاجَرَ : جس نے ہجرت کی اِلَيْهِمْ : ان کی طرف وَلَا يَجِدُوْنَ : اور وہ نہیں پاتے فِيْ : میں صُدُوْرِهِمْ : اپنے سینوں (دلوں) حَاجَةً : کوئی حاجت مِّمَّآ : اس کی اُوْتُوْا : دیا گیا انہیں وَيُؤْثِرُوْنَ : اور وہ اختیار کرتے ہیں عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ : اپنی جانوں پر وَلَوْ كَانَ : اور خواہ ہو بِهِمْ خَصَاصَةٌ ڵ : انہیں تنگی وَمَنْ يُّوْقَ : اور جس نے بچایا شُحَّ نَفْسِهٖ : بخل سے اپنی ذات کو فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ هُمُ : وہ الْمُفْلِحُوْنَ : فلاح پانے والے
اور یہ مال ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے دارالہجرت میں ٹھکانہ بنا چکے ہیں اور اپنے ایمان کو محکم کرچکے ہیں، یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کی طرف آرہے ہیں، اور جو کچھ ان کو دیا جارہا ہے وہ اس کی اپنے دلوں میں کوئی حاجت محسوس نہیں کرتے، اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ انھیں خود احتیاج ہو، اور جو دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُالدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِھِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ھَاجَرَ اِلَیْھِمْ وَلاَ یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ قف ط وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الحشر : 9) (اور یہ مال ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے دارالہجرت میں ٹھکانہ بنا چکے ہیں اور اپنے ایمان کو محکم کرچکے ہیں، یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کی طرف آرہے ہیں، اور جو کچھ ان کو دیا جارہا ہے وہ اس کی اپنے دلوں میں کوئی حاجت محسوس نہیں کرتے، اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ انھیں خود احتیاج ہو، اور جو دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ ) مالِ فے کا ایک دوسرا خصوصی مصرف اموالِ فے میں صرف مہاجرین ہی کا حصہ نہیں بلکہ انصار بھی اس کے مستحق ہیں۔ البتہ اس کا اختیار آنحضرت ﷺ کو دیا گیا ہے کہ وہ کسے مستحق سمجھتے ہیں اور اس کی ضرورت کا احساس کرکے اس کو کتنا عطا فرماتے ہیں۔ انصار کی تعریف میں چند باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جن میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ مہاجرین سے پہلے مدینہ طیبہ جو مہاجرین کے لیے دارالہجرت بنا وہ ان کا وطن مالوف تھا، لیکن اپنے وطن کی محبت میں مٹی کو ماں بنانے کی بجائے انھوں نے اپنا سرمایہ دین کو بنایا اور اس پر ایمان لا کر زیادہ سے زیادہ اس میں استواری پیدا کی۔ یہ تَبَوَّؤُالدَّارَ وَالْاِیْمَانَ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح عَلَّفْتُہُ تِبْنًا وَمَائً ” میں نے اس کو چارہ کھلایا اور پانی پلایا۔ “ اس میں دوسرے مفعول سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یہاں بھی الایمان سے پہلے مناسبت رکھنے والا ایک فعل محذوف ہے۔ اَحْکَمُوْا یا اس کا کوئی ہم معنی فعل مراد لیا جاسکتا ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ پہلے سے ٹھکانے بنائے ہوئے اور ایمان استوار کیے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد انصار ہیں۔ یہ لوگ پہلے سے مدینہ میں موجود اور ایمان سے آراستہ تھے۔ حضرت مصعب بن عمیر کی کاوشوں سے آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اوس و خزرج کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہوچکی تھی۔ اور انھوں نے اپنے ایمان کو اس حد تک مضبوط بنا لیا تھا کہ جب مہاجرین ایک بڑی تعداد میں وہاں پہنچے تو بجائے دل تنگ ہونے کے انھوں نے نہ صرف اپنے دل ان کے لیے کھول دیئے بلکہ گھروں اور نخلستانوں کے دروازے بھی کھول دیئے اور پروردگار گواہی دے رہا ہے کہ وہ مہاجرین سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی نصرت کا عالم یہ تھا کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یہ پیشکش کی کہ ہمارے باغ اور نخلستان حاضر ہیں، آپ انھیں ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان بانٹ دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ تو باغبانی نہیں جانتے اور یہ اس علاقے سے آئے ہیں جہاں باغات نہیں ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اپنے ان باغوں اور نخلستانوں میں کام تم کرو اور پیداوار میں سے حصہ ان کو دو ۔ انھوں نے کہا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا (بخاری) اس پر مہاجرین نے عرض کیا، ہم نے کبھی ایسے لوگ نہیں دیکھے۔ اسی طرح جب نبونضیر کا علاقہ فتح ہوا تو انصار نے عرض کیا کہ یہ جائیدادیں آپ ان میں بانٹ دیں اور ہماری جائیدادوں میں سے بھی جو کچھ آپ چاہیں ان کو دے سکتے ہیں۔ اس پر حضرت ابوبکر ( رض) پکار اٹھے، جزاکم اللّٰہ یامعاشرالانصار خیرا۔ اسی طرح جب بحرین کا علاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہوا تو انصار نے کہا کہ ہم اس میں سے کوئی حصہ نہ دیں گے جب تک اتنا ہی ہمارے مہاجر بھائیوں کو نہ دیا جائے۔ انصار کا یہی وہ ایثار ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے انھیں جن خوبیوں سے نوازا تھا ان میں بنیادی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے اوپر دوسرے بھائیوں کو ترجیح دیتے تھے۔ اور نفس کی خودغرضی اور دل کی تنگی سے انھیں بچا لیا گیا تھا۔ یہ خودغرضی اور دل کی تنگی وہ عیب ہے جو انسان سے انسانیت چھین لیتا ہے۔ اور جو اس سے بچ جاتا ہے وہ تقویٰ کی اعلیٰ منازل کو پا لیتا ہے۔ چناچہ ایسے ہی لوگوں کو قرآن کریم نے کامیاب قرار دیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اسی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا، حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے اتقوا الشح فان الشح اہلک من قبلکم حملھم علی ان سفکوا دماء ھم واستحلوا محارمھم (مسلم، مسنداحمد، بیہقی) حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت میں الفاظ یہ ہیں امرھم بالظلم فظلموا وامرھم بالفجور ففجروا وامرھم بالقطیعۃ فقطعوا (مسنداحمد، ابودائود، نسائی) ” شح سے بچو، کیونکہ شیح ہی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اسی نے ان کے ایک دوسرے کے خون بہانے اور دوسرے کی حرمتوں کو اپنے لیے حلال کرنے پر اکسایا، اس نے ان کو ظلم پر آمادہ کیا، اور انھوں نے ظلم کیا، فجور کا حکم دیا اور انھوں نے فجور کیا، قطع رحمی کرنے کے لیے کہا، اور انھوں نے قطع رحمی کی۔ “
Top