Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
سو کیا تم خیال رکھتے ہو کہ ہم نے تم کو بنایا کھیلنے کو اور تم ہمارے پاس پھر کر نہ آؤ گے5
5 یعنی دنیا میں تو نیکی بدی کا پورا نتیجہ نہیں ملتا۔ اگر اس زندگی کے بعد دوسری زندگی نہ ہو تو گویا یہ سب کارخانہ محض کھیل تماشہ اور بےنتیجہ تھا۔ سو حق تعالیٰ کی جناب اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی نسبت ایسا رکیک خیال کیا جائے۔
Top