Tafseer-e-Usmani - Al-Ahzaab : 36
وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا
وَاِذْ : اور جب قَالَتْ : کہا طَّآئِفَةٌ : ایک گروہ مِّنْهُمْ : ان میں سے يٰٓاَهْلَ يَثْرِبَ : اے یثرت (مدینہ) والو لَا مُقَامَ : کوئی جگہ نہیں لَكُمْ : تمہارے لیے فَارْجِعُوْا ۚ : لہذا تم لوٹ چلو وَيَسْتَاْذِنُ : اور اجازت مانگتا تھا فَرِيْقٌ : ایک گروہ مِّنْهُمُ : ان میں سے النَّبِيَّ : نبی سے يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے تھے اِنَّ : بیشک بُيُوْتَنَا : ہمارے گھر عَوْرَةٌ ړ : غیر محفوظ وَمَا هِىَ : حالانکہ وہ نہیں بِعَوْرَةٍ ڔ : غیر محفوظ اِنْ يُّرِيْدُوْنَ : وہ نہیں چاہتے اِلَّا : مگر (صرف) فِرَارًا : فرار
جب چڑھ آئے تم پر اوپر کی طرف سے اور نیچے سے5 اور جب بدلنے لگیں آنکھیں6  اور پہنچے دل گلوں تک7 اور اٹکلنے لگے تم اللہ پر طرح طرح کی اٹکلیں8
5 یعنی مدینہ کی شرقی جانب سے جو اونچی ہے اور غربی جانب سے جو نیچی ہے۔ 6  یعنی دہشت و حیرت سے آنکھیں پھرنے لگیں اور لوگوں کے تیور بدلنے لگے۔ دوستی جتانے والے لگے آنکھیں چرانے۔ 7 یعنی خوف و ہراس سے دل دھڑک رہے تھے گویا اپنی جگہ سے اٹھ کر گلے میں آلگے۔ 8 یعنی کوئی کچھ سمجھتا تھا کوئی کچھ اٹکلیں لڑا رہا تھا۔ مسلمانوں نے سمجھا کہ اس مرتبہ اور سخت آزمائش آئی، دیکھیے کیا صورت پیش آئے۔ کچے ایمان والوں نے خیال کیا کہ بس جی اب کی بار نہیں بچیں گے۔ منافقین کا تو پوچھنا ہی کیا۔ آگے ان کے مقولے آرہے ہیں۔
Top