Aasan Quran - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور (ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ) اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو، اور اس سے مار دو ، اور اپنی قسم مت توڑو۔ (23) حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندے تھے، واقعہ وہ اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے۔
23: حضرت ایوب ؑ کی اہلیہ کو ایک مرتبہ شیطان نے اس طرح ورغلایا کہ وہ ایک طبیب کی شکل میں ان کے سامنے آیا، یہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، انہوں نے اس کو واقعی طبیب سمجھ کر اس سے کہا کہ میرے شوہر کا اعلاج کردو، وہ تو شیطان تھا، اس نے کہا کہ اس شرط پر علاج کرتا ہوں کہ اگر تمہارے شوہر کو شفا ہوگئی تو تمہیں یہ کہنا ہوگا کہ اس طبیب نے انہیں شفا دی ہے۔ یہ خاتون چونکہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، اس لیے ان کے دل میں اس کی بات ماننے کا میلان پیدا ہوا، اور انہوں نے حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ؑ کو بڑا رنج ہوا کہ شیطان نے ان کی اہلیہ تک رسائی حاصل کرلی ہے، اور وہ اس کی بات ماننے کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔ اس رنج کے عالم میں انہوں نے قسم کھالی کہ میں صحت مند ہونے کے بعد اپنی بیوی کو سو قمچیاں ماروں گا۔ لیکن جب انہیں صحت حاصل ہوگئی تو انہیں اپنی قسم پر شرمندگی ہوئی، اور خیال آیا کہ اپنی ایسی با وفا بیوی کو کس طرح یہ سزا دوں ؟ اور اگر نہ دوں تو قسم ٹوٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے حکم دیا کہ وہ سو سینکوں کا ایک مٹھا لے کر ایک ہی مرتبہ اپنی بیوی کو مار دیں، اس طرح قسم بھی نہیں ٹوٹے گی اور بیوی کو کوئی خاص تکلیف بھی نہیں پہنچے گی۔
Top