Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے
30۔ 33۔ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن جریر اور تفسیر 2 ؎ ابن منذر میں حضرت علی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ دریائی گھوڑے تھے جن کے دیکھنے کے شغل میں سلیمان (علیہ السلام) کی عصر کی نماز کو دیر ہوگئی اوسط 3 ؎ طبرانی میں ابی بن کعب سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا عصر کی نماز میں دیر ہوجانے کے رنج سے سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی پنڈلیاں کاٹ ڈالیں اور پھر ان کو ذبح کر ڈالا۔ دین الٰہی کے جوش میں سلیمان (علیہ السلام) کا یہ کام ایسا ہی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کے بال پکڑ کر کھینچے تھے۔ ابی بن کعب کی حدیث جو اوپر بیان کی گئی اس کی سند میں سعید بن بشیر راوی ہے۔ جس کو بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ اور عبد الرحمن بن ابراہیم نے سعید بن بشیر کو ثقہ قرار دیا ہے۔ شعبہ اس فن میں امیر المومنین مشہور ہیں اور عبد الرحمن رحیم دمشق کے علما میں ہیں کہ امام احمد اور ابن معین ان کو اپنے سے بہتر شمار کرتے اور ان کی مجلس میں شاگردوں کی شان سے بیٹھا کرتے تھے اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث کی سند معتبر ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر دائود (علیہ السلام) کی خلافت کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اس خلافت نبوت اور نیابت بادشاہت کو اللہ تعالیٰ نے فقط دائود (علیہ السلام) پر ختم نہیں کیا۔ بلکہ ان کی اولاد میں سلیمان (علیہ السلام) کو بھی وہی مرتبہ عنایت فرمایا۔ کہ وہ نبی بھی ہوئے۔ بادشاہ بھی ہوئے اور باوجود بادشاہت کے وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے مرضی کے کاموں میں لگے رہے۔ اب آگے ان کے جوش دینی اور مرضی الٰہی کے کاموں کی امنگ کی مثال میں وہی دریائی گھوڑوں کا قصہ بیان فرمایا جس کا ذکر حضرت علی ؓ اور ابی بن کعب کی روایتوں کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے۔ اگر حافظ ابو جعفر 1 ؎ ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے حوالہ سے مسحا بالسوق والاعناق کی یہ تفسیر کی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کو دوبارہ اپنے سامنے منگوا کر ان کو پیار کیا۔ لیکن جب ابی بن کعب کی معتبر روایت میں خود صاحب وحی ﷺ نے آیت کے ٹکڑے کی یہ تفسیر فرما دی ہے جو اوپر بیان کی گئی تو اب اس کے مقابل میں اور کوئی دوسری تفسیر صحیح نہیں قرار پا سکتی۔ اسی واسطے عماد الدین حافظ ابن کثیر نے حافظ ابو جعفر ابن جریر کے پیار کرنے کی تفسیر کو پسند نہیں کیا۔ صحیح سند سے ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ سے اور معتبر سند سے طبرانی اور بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس 2 ؎ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو نبی آخر الزمان ﷺ کی مرضی پر رکھا تھا کہ اگر آپ دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کی طرح نبوت اور بادشاہت دونوں چیزوں کو پسند کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کو دونوں چیزیں عطا فرما دے گا۔ لیکن آپ نے خالص نبوت کو پسند کیا۔ ان حدیثوں کو اوپر کی آیتوں اور ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ نے اپنی تمام عمر تنگ دستی سے جو گزاری وہ آپ کی مرضی کے موافق ایک بات تھی ورنہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ بادشاہت کی درخواست کو بھی ان کی مرضی پر منحصر رکھا تھا۔ (2 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 309 ج 5۔ ) (3 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 309 ج 5۔ ) (1 ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ص 34 ج 4۔ ) (2 ؎ بحوالہ الترغیب والترہیب ابواب الزھد ص 360‘ 361 ج 4)
Top