Al-Quran-al-Kareem - Al-Maaida : 60
فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ
فِى الدُّنْيَا : دنیا میں وَالْاٰخِرَةِ : اور آخرت وَيَسْئَلُوْنَكَ : اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں عَنِ : سے (بارہ) میں الْيَتٰمٰي : یتیم (جمع) قُلْ : آپ کہ دیں اِصْلَاحٌ : اصلاح لَّھُمْ : ان کی خَيْرٌ : بہتر وَاِنْ : اور اگر تُخَالِطُوْھُمْ : ملالو ان کو فَاِخْوَانُكُمْ : تو بھائی تمہارے وَاللّٰهُ : اور اللہ يَعْلَمُ : جانتا ہے الْمُفْسِدَ : خرابی کرنے والا مِنَ : سے (کو) الْمُصْلِحِ : اصلاح کرنے والا وَلَوْ : اور اگر شَآءَ : چاہتا اللّٰهُ : اللہ لَاَعْنَتَكُمْ : ضرور مشقت میں ڈالتا تم کو اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ عَزِيْزٌ : غالب حَكِيْمٌ : حکمت والا
کہہ دے کیا میں تمہیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتاؤں، وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر غصے ہوا اور جن میں سے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ یہ لوگ درجے میں زیادہ برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ : یعنی تمہارے گمان میں ہم برے ہیں، اس لیے تم ہم پر عیب لگاتے ہو اور انتقام لینے کی کوشش کرتے ہو، لیکن ذرا اپنی تاریخ پر بھی غور کرو اور اپنے ان پہلوں کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی جرأت کرو جن کا انجام اللہ کے ہاں اس سے بھی کہیں بدتر ہوا اور ہونے والا ہے، جس کا تم ہمارے بارے میں دعویٰ کرتے ہو۔ یہ لوگ تمہارے ہی آباء و اجداد تھے جو دین کا مذاق اڑانے اور مختلف جرائم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مبتلا ہوئے، ان میں سے بہت سوں (اصحاب سبت) کی صورتیں مسخ کر کے انھیں بندر اور خنزیر بنادیا گیا اور جو شیطان کی اطاعت میں اس حد تک نکل گئے کہ انھوں نے طاغوت کی عبادت شروع کردی، جیسے سامری کا بنایا ہوا بچھڑا، جو دراصل شیطان ہی کی پوجا تھی۔ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْل : یعنی تم ہمیں کتنا ہی گمراہ کہہ لو، لیکن یہ بات مانے بغیر چارہ نہیں کہ تمہارے باپ دادا یقیناً گمراہ تھے اور ان کا انجام اللہ کے ہاں بہت برا ہوگا۔
Top