Anwar-ul-Bayan - Yaseen : 11
اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ
اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں تُنْذِرُ : تم ڈراتے ہو مَنِ : جو اتَّبَعَ : پیروی کرے الذِّكْرَ : کتاب نصیحت وَخَشِيَ : اور ڈرے الرَّحْمٰنَ : رحمن (اللہ) بِالْغَيْبِ ۚ : بن دیکھے فَبَشِّرْهُ : پس اسے خوشخبری دیں بِمَغْفِرَةٍ : بخشش کی وَّاَجْرٍ : اور اجر كَرِيْمٍ : اچھا
آپ اسی شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کا اتباع کرے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرے، سو آپ اسے مغفرت کی اور اجر کریم کی خوشخبری سنا دیجیے،
اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے ان کو ایمان لانا نہیں ہے یعنی یہ لوگ آپ کے انذار کا اثر نہ لیں گے، جو لوگ انذار کا اثر لیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا نصیحت قبول کرنے کا مزاج ہے جو حق بات سنتے ہیں اور فکر کرتے ہیں اور وضوح حق کے بعد حق کو مان لیتے ہیں : (ھٰذا علی احد القولین) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ (مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ ) سے مومنین مراد ہیں اور (ویؤید ما بعدہ) جو بن دیکھے رحمان سے ڈرتے ہیں، وہ رحمان کو رحمن بھی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی نافرمانی اور تقصیر اور کوتاہی کے سبب سے اس کی گرفت سے بھی ڈرتے ہیں۔ (فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّ اَجْرٍ کَرِیْمٍ ) (سو اس شخص کو مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو )
Top