Anwar-ul-Bayan - Al-Baqara : 19
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ
وَإِذَا لَقُوا : اور جب ملتے ہیں الَّذِينَ آمَنُوا : جو لوگ ایمان لائے قَالُوا : کہتے ہیں آمَنَّا : ہم ایمان لائے وَإِذَا : اور جب خَلَوْا : اکیلے ہوتے ہیں إِلَىٰ : پاس شَيَاطِينِهِمْ : اپنے شیطان قَالُوا : کہتے ہیں إِنَّا : ہم مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ إِنَّمَا : محض نَحْنُ : ہم مُسْتَهْزِئُونَ : مذاق کرتے ہیں
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کہ بھلا جس طرح بیوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں ؟ سن لو کہ یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے
(2:9) امنوا۔ فعل امر، جمع مذکر حاضر، ایمان۔ (افعال) مصدر تم ایمان لاؤ۔ کما مرکب ہے ک اور ما سے ک حرف تشبیہ ہے۔ ما مصدر یہ ہے، ای امنوا ایمانا مثل ایمان الناس۔ السفھائ۔ السفیہ کی جمع۔ بےوقوف، کم عقل، بےسمجھ، احمق، السفیہ کے اصل معنی جسمانی ہلکاپن کے ہیں۔ عرب بولتے ہیں سفھت الریح الشیئ۔ اس چیز کو ہوا لے اڑی۔ پھر بسبب خفیف ہونے عقل کے اس کا اطلاق بےوقوفی اور حماقت پر ہونے لگا۔ سفیہ بروزن فعیل ۔ اسم فاعل ہے بمعنی بےوقوف۔ الناس : (1) ال جنس کے لئے ہے جس سے مراد مرد کامل ہے کیونکہ جنس بول کر فرد کامل مراد لیا جاتا ہے۔ جیسے کہ ہم بولتے ہیں ” فلاں انسا ہے “ یعنی کامل انسان ہے اس تقدیر پر الناس سے مراد اہل ایمان ہیں جو صحیح معنی میں انسان ہیں۔ (2) ال عہد کا بھی ہوسکتا ہے یعنی صحابہ کرام ؓ
Top