Bayan-ul-Quran - Al-Baqara : 14
اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ
أَوْ کَصَيِّبٍ : یا جیسے بارش ہو مِنَ السَّمَاءِ : آسمان سے فِيهِ : اس میں ظُلُمَاتٌ : اندھیرے ہوں وَرَعْدٌ : اور گرج وَبَرْقٌ : اور بجلی يَجْعَلُونَ : وہ ٹھونس لیتے ہیں أَصَابِعَهُمْ : اپنی انگلیاں فِي آذَانِهِمْ : اپنے کانوں میں مِنَ الصَّوَاعِقِ : کڑک کے سبب حَذَرَ الْمَوْتِ : موت کے ڈر سے وَاللَّهُ : اور اللہ مُحِيطٌ : گھیرے ہوئے ہے بِالْکَافِرِينَ : کافروں کو
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم (پیروان محمد سے) تو ہنسی کیا کرتے ہیں
(14) منافقین جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی صدق دل سے اسی طرح ایمان لائے ہیں جس طرح کہ تم لوگ ایمان لائے ہو اور تم لوگوں نے تصدیق کی ہے اور جب اپنے بڑوں اور سرداروں کے پاس جاتے ہیں اور وہ پانچ آدمی ہیں، مدینہ منورہ میں کعب بن اشرف، بنی اسلم میں ابوبردہ اسلمی، ابن السوداشام میں، جہینہ میں عبدالدار اور بنی عامر میں عوف بن عامر تو ان سے آکر کہتے ہیں کہ اصل میں ہم تم لوگوں کے ہی دین پر ہیں ہم تو کلمہ لا الہ الا اللہ۔ زبان سے کہہ کر (معاذ اللہ) رسول اللہ ﷺ اور آپ کی جماعت سے ٹھٹھہ کرتے ہیں۔
Top