Anwar-ul-Bayan - Yaseen : 11
اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ
اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں تُنْذِرُ : تم ڈراتے ہو مَنِ : جو اتَّبَعَ : پیروی کرے الذِّكْرَ : کتاب نصیحت وَخَشِيَ : اور ڈرے الرَّحْمٰنَ : رحمن (اللہ) بِالْغَيْبِ ۚ : بن دیکھے فَبَشِّرْهُ : پس اسے خوشخبری دیں بِمَغْفِرَةٍ : بخشش کی وَّاَجْرٍ : اور اجر كَرِيْمٍ : اچھا
تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور خدا سے غائبانہ ڈرے سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو
(36:11) خشی الرحمن بالغیب۔ اور رحمن سے بن دیکھے ڈرے۔ القھار اور المنتقم کی بجائے الرحمن سے ڈرنے کا ذکر کیا حالانکہ رحمن سے ڈرنے کا کوئی تعلق نہیں خوف تو قھار کے قہر سے اور منتقم کے انتقام سے ہونا چاہیے لیکن رحمن سے ڈرنا اس لئے فرمایا کہ رحمن کی صفت رحمت جانتے ہوئے پھر اس سے ڈرنا یہ خشیت کا انتہائی درجہ ہے۔ اور عین ایمان ہے۔ کمال ایمان ہے (کہیں بندے کی کوتاہی رحمان کی رحمت میں کمی کا باعث نہ بن جائے جو بندے کے لئے ناقبل برداشت نقصان ہے ) ۔ اجر کریم۔ موصوف صفت۔ عمدہ اجر۔ یعنی جنت۔ ما قدموا۔ ما موصولہ ہے قدموا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ جو انہوں نے آگے بھیجا۔ یہاں ماضی بمعنی حال استعمال ہوا ہے۔ یعنی جو (نیک وبد اعمال ) وہ آخرت کے لئے کرتے ہیں۔
Top