Anwar-ul-Bayan - Yaseen : 17
وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
وَمَا : اور نہیں عَلَيْنَآ : ہم پر اِلَّا : مگر الْبَلٰغُ : پہنچا دینا الْمُبِيْنُ : صاف صاف
اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس
(36:17) وما علینا۔ اور ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ البلغ المبین۔ موصوف وصفت۔ بلاغ بلغ یبلغ (نصر) سے مصدر ہے ۔ البلاغ والبلوغ کے معنی مقصد اور منتہی کی آخری حد تک پہنچنے کے ہیں عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچنے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔ چناچہ انتہا تک پہنچنے کے معنی میں ہے۔ حتی بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ (46:15) یہاں تک کہ جب خوب جو ان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے۔ البلاغ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں جیسے کہ قرآن مجید میں ہے ھذا بلغ للناس (14:52) یہ قرآن لوگوں کے نام خدا کا پیغام ہے۔ یا فانما علی کی البلغ وعلینا الحساب (13:40) تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے المبین۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ صاف صاف، واضح طور پر پہنچا دینا۔ ایسی تبلیغ کہ جس میں ہر پہلو کی وضاحت کی گئی ہو۔ مبین ابانۃ سے (باب افعال) ظاہر۔ کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ کھلونے والا ( باب افعال سے لازم ومتعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے) ۔ بلاغ کے معنی کافی ہو بھی آتے ہیں جیسے ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین (21:106) عبادت کرنے والوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں میں ) پوری پوری اور کافی تبلیغ ہے۔
Top