Ashraf-ul-Hawashi - Al-Baqara : 78
وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا
وَابْتَلُوا : اور آزماتے رہو الْيَتٰمٰى : یتیم (جمع) حَتّٰى : یہانتک کہ اِذَا : جب بَلَغُوا : وہ پہنچیں النِّكَاحَ : نکاح فَاِنْ : پھر اگر اٰنَسْتُمْ : تم پاؤ مِّنْھُمْ : ان میں رُشْدًا : صلاحیت فَادْفَعُوْٓا : تو حوالے کردو اِلَيْھِمْ : ان کے اَمْوَالَھُمْ : ان کے مال وَلَا : اور نہ تَاْكُلُوْھَآ : وہ کھاؤ اِسْرَافًا : ضرورت سے زیادہ وَّبِدَارًا : اور جلدی جلدی اَنْ : کہ يَّكْبَرُوْا : کہ وہ بڑے ہوجائینگے وَمَنْ : اور جو كَانَ : ہو غَنِيًّا : غنی فَلْيَسْتَعْفِفْ : بچتا رہے وَمَنْ : اور جو كَانَ : ہو فَقِيْرًا : حاجت مند فَلْيَاْكُلْ : تو کھائے بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق فَاِذَا : پھر جب دَفَعْتُمْ : حوالے کرو اِلَيْھِمْ : ان کے اَمْوَالَھُمْ : ان کے مال فَاَشْهِدُوْا : تو گواہ کرلو عَلَيْھِمْ : ان پر وَكَفٰى : اور کافی بِاللّٰهِ : اللہ حَسِيْبًا : حساب لینے والا
اور ان میں سے بعض ان پڑھ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو نہیں جانتے مگر آرزوئیں اور گمان ہی گمان رکھتے ہیں1
1 بنی اسرائیل کے عناد اور سرکشی کو بیان کرنے کے بعد اب ان کے مختلف فرقوں کا بیان ہو رہا ہے اس آیت میں عوام کی حالت بیان کی ہے۔ (کبیر) امی وہ ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو اور امانی جمع ہے امنیتہ کی جس کے معنی آرزوؤں یا من گھڑت روایات کے ہیں یعنی یہود میں ایک طبقہ جو انپڑھ اور عوام کا ہے جنہیں الکتاب یعنی توریت کا تو کچھ علم نہیں ہے مگر وہ اپنے سینوں میں بعض بےبنیاد قسم کی آرزوئیں پائے ہوئے ہیں۔ مثلا یہ کہ ان بزرگوں کو وجہ سے اللہ انہیں ضرور بخش دے گا یا یہ کہ جنت میں یہود کے سوا کوئی نہیں جائے گا وغیرہ قسم کی خرافات کا عقیدہ باندھے ہوئے ہیں یہ ان کی غلط آرزوئیں ہیں من گھڑت قصے ہیں جو انہوں نے سن رکھے ہیں اور یہ نری بکواس کرتے ہیں ( ترجمان )
Top