Kashf-ur-Rahman - Al-Ankaboot : 44
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ : اور وہ آپ سے جلدی کرتے ہیں بِالْعَذَابِ ۭ : عذاب کی وَلَوْلَآ : اور اگر نہ اَجَلٌ : میعاد مُّسَمًّى : مقرر لَّجَآءَهُمُ : تو آچکا ہوتا ان پر الْعَذَابُ ۭ : عذاب وَلَيَاْتِيَنَّهُمْ : اور ضرور ان پر آئے گا بَغْتَةً : اچانک وَّهُمْ : اور وہ لَا يَشْعُرُوْنَ : انہیں خبر نہ ہوگی
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت و مصلحت کے ساتھ بنایا ہے، بیشک ان دونوں کے بنانے میں اہل ایمان کیلئے بڑی دلیل ہے
44۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال مصلحت اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے ، بلا شبہ ان دونوں کے بنانے میں اہل ایمان کے لئے بڑی دلیل ہے۔ یعنی زمین اور آسمان کو نہایت مناسب انداز میں جیسا بنانا چاہئے تھا ویسا ہی بنایا اور مسلمانوں کے لئے دلیل اس لئے فرمایا کہ وہ ان کی بناوٹ اور ساخت کو دیکھ کر یہ جانتے ہیں کہ چونکہ یہ کا کام صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس لئے اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کام میں کوئی شامل نہ تھا تو تھوڑے کام میں شریک ہونے کی کیا احتیاج۔ 12 یعنی جب آسمان و زمین جیسی مخلوق بنانے میں کسی کا ساجھا اور کسی کی شرکت نہیں تو جو باتیں زمین و آسمان سے کم ہیں ان میں اس کا شریک کیوں کیا جائے۔
Top