Tafseer-e-Madani - Al-Baqara : 4
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠   ۧ
ھُوَ : وہی ہے الَّذِىْ : جس نے خَلَقَ : پیدا کیا لَكُمْ : واسطے تمہارے مَّا : جو کچھ ہے فِى الْاَرْضِ : زمین میں جَمِيْعًا : سارے کا سارا / سب کچھ ثُمَّ : پھر اسْتَوٰٓى : وہ متوجہ ہوا / ارادہ کیا اِلَى : طرف السَّمَآءِ : آسمان کے فَسَوّٰىھُنَّ : پس برابر کردیا ان کو / درست بنایا ان کو / ہموار کیا ان کو سَبْعَ : سات سَمٰوٰتٍ : آسمانوں کو وَ : اور ھُوَ : وہ بِكُلِّ : ساتھ ہر شَىْءٍ : چیز کے عَلِيْمٌ : خوب علم والا ہے
اور جو کتاب (اے محمد) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں
(4۔ 5) اور جو قرآن کریم اور تمام انبیائے کرام پر جو کتابیں نازل ہوئی ہیں ان کی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی اور جنت کے جملہ انعامات کی تصدیق کرتے ہیں، یہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ہیں۔ ایسی اچھائیوں کے مالک اپنے پروردگار کی جانب سے رحمت و کرامت اور بزرگی کے مالک ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے رہائی پانے والے ہیں۔ یہ تفسیر بھی ہے کہ جن حضرات نے حضور ﷺ کے زمانہ مبارک کو پایا اور جن چیزوں کا ان حضرات نے مطالبہ کیا تھا اس کو حاصل کرلیا اور جن برائیوں سے بھاگ کر آئے تھے، اس سے نجات حاصل کرلی (یعنی محبت نبوی کی برکت سے تزکیہ نفوس کے مرحلے سے بخوبی گزر گئے) یہ حضرات رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ ہیں۔
Top