Dure-Mansoor - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور ایک شخص اس شہر کے دور والے مقام سے ڈورتا ہوا آیا اس نے کہا کہ اے میری قوم ان فرستادہ آدمیوں کا اتباع کرو۔
وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون (21) ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (22) ۔ 19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آدمی نماز میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نام حبیب تھا (جب) اس نے ان لوگوں کے بارے میں سنا جن کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجا تھا وہ ان کے پاس آیا اور کہا تم کسی اجرت کا تقاضا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو حبیب نے اپنی قوم سے کہا (آیت) قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون “ (اے میری قوم ان رسولوں کی راہ پر چلو ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور وہ خود (راہ راست پر ہیں) یہاں تک کہ (آیت) ” فاسمعون “ تک پہنچا قوم والوں نے اس کو پتھروں سے مارنا شروع کردیا وہ کہہ رہا تھا اے میرے رب میری قوم کو ہدایت دے (فانہم لا یعلمون بماغفرلی ربی “ (کیونکہ وہ نہیں جانتے اس بات کو کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا ہے) حتی کہ (آیت) ” ان کانت الا صیحۃ واحدۃ “ تک پہنچا (پس وہ ایک چیخ کی آواز تھی جس سے وہ مرگئے فرمایا کہ اس کو قتل کرنا ہے اور ان کو مہلت نہیں دی گئی یہاں تک کہ ان کو (عذاب نے) پکڑلیا (آیت) ” صیحۃ واحدۃ فاذا ھم خمدون “ (وہ ایک چیخ تھی جس سے وہ دم گھٹ کر رہ گئے یعنی مرگئے) 20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمر بن الحکم (رح) نے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ کسان تھا۔ 21:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کھیتی باڑی کرنے والا تھا۔ 22:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اصحاب الرس “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا بلاشبہ تم عرب کی جماعت کنویں کو رس کہتے ہو قبر کو رس کہتے ہو انہوں نے زمین میں خندقیں کھودیں اور قاصدوں کو جلانے کے لئے ان میں آگ جلائی جن کا اللہ تعالیٰ نے یسین میں ذکر فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ (جب ہم نے ان کے پاس دو قاصدوں کو بھیجا ان لوگوں نے دونوں کو جھوٹا قرار دیا پھر ہم نے تیسرے قاصد سے ان کی مدد کی) اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے لئے نبوت اور رسالت کو جمع کردیتا ہے تو اس کو لوگوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اور انبیاء قتل کئے جاتے تھے جب اس آدمی نے (جو شہر کے دورمقام میں رہتا تھا اور قاصدوں کو بھیجنے کا خواہشمند تھا) اس کے بارے میں سنا تو وہ دوڑتا ہوا آیا تاکہ ان کو پالے اور ان کو اپنے ایمان پر گواہ بنالے اور اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا (آیت) ” یقوم اتبعوا المرسلین “ سے لے کر (آیت) ” لفی ضلل مبین “ تک پھر قاصدوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہا (آیت) ” انی امنت بربکم فاسمعون “ (یہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم سن لو) تاکہ وہ اس کو اپنے ایمان پر گواہ بنالے۔ اس کو پکڑ لیا گیا اور اس کو آگ میں پھینک دیا گیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ادخل الجنۃ “ (جنت میں داخل ہوجا) تو اس نے کہا (آیت) ” قال یلیت قومی یعلمون (26) بما غفرلی ربی وجعلنی من المکرمین (27) (کاش میری قوم جان لیتی میرے رب نے مجھے بخش دیا اور عزت یافتہ لوگوں میں مجھے شامل کردیا) 23:۔ الحاکم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب صاحب یسین نے کہا (آیت) ” یقوم اتبعوا المرسلین “ (اے میری قوم بھیجے ہوؤں کی راہ پر چلو) تو لوگوں نے اس کا گلا گھونٹ دیا تاکہ وہ مرجائے تو وہ انبیاء کی طرف متوجہ ہو کر کہا (آیت) ” انی امنت بربکم فاسمعون “ (بلاشبہ میں ایمان لایا تمہارے رب کے ساتھ سو تم سن لو) یعنی میرے لئے گواہی دو ۔ 24:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقیل ادخل الجنۃ “ (اس سے کہا کہ جنت میں داخل ہوجا) کہ اس کیلئے جنت واجب کردی گئی (آیت) ” قال یلیت قومی یعلمون “ (کہا کاش میری قوم اس کو جان لیتی) یہ جب کہا جب اس نے ثواب کو دیکھا۔
Top