Dure-Mansoor - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس بات کو تم نے نحوست سمجھ لیا کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ بات یہ ہے کہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو
13:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” طائرکم معکم “ یعنی تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ 14:۔ عبد بن حمید (رح) نے یحییٰ بن وثاب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ائن ذکرتم “ کو کسرہ کے ساتھ پڑھا اور رزین بن حیشنی اس کو (آیت) ” ائن ذکرتم “ کو نصب کے ساتھ پڑھا۔ 15:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ (اور ایک آدمی اس شہر کے دور مقام سے دوڑتا ہوا آیا) اس میں رجل سے مراد حبیب نجار ہے۔ 16:۔ عبدبن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 17:۔ ابن جریر (رح) نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ صاحب یسین کا نام حبیب بن مری تھا۔ حبیب نجار کا ذکر خیر : 18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صاحب یسین کا نام حبیب تھا اور جذام کا مرض اس میں جلدی پھیلا تھا۔
Top