Kashf-ur-Rahman - Al-An'aam : 152
یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ
يٰمَعْشَرَ : اے گروہ الْجِنِّ : جنات وَالْاِنْسِ : اور انسان اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں آئے تمہارے پاس رُسُلٌ : رسول (جمع) مِّنْكُمْ : تم میں سے يَقُصُّوْنَ : سناتے تھے (بیان کرتے تھے) عَلَيْكُمْ : تم پر اٰيٰتِيْ : میرے احکام وَيُنْذِرُوْنَكُمْ : اور تمہیں ڈراتے تھے لِقَآءَ : ملاقات (دیکھنا) يَوْمِكُمْ : تمہارا دن ھٰذَا : اس قَالُوْا شَهِدْنَا : وہ کہیں گے ہم گواہی دیتے ہیں عَلٰٓي : پر (خلاف) اَنْفُسِنَا : اپنی جانیں وَغَرَّتْهُمُ : اور انہیں دھوکہ میں ڈالدیا الْحَيٰوةُ : زندگی الدُّنْيَا : دنیا وَشَهِدُوْا : اور انہوں نے گواہی دی عَلٰٓي : پر (خلاف) اَنْفُسِهِمْ : اپنی جانیں (اپنے) اَنَّهُمْ : کہ وہ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ : کفر کرنے والے تھے
اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر ہاں ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ یتیم اپنی جوانی کو پہونچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے موافق اور تم جب کوئی بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ وہ صاحب معاملہ اپنا قرابتدار ہی کیوں نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو یہ وہ باتیں ہیں جن کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو
-152 اور یہ کہ مال یتیم کے قریب نہ جائو مگر ہاں اییس طریقہ ہے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ یتیم اپنی جوانی کو پہونچ جائے یعنی جب تک وہ یتیم جوان نہ ہوجائے اس کے مال میں تصرف نہ کرو مگر یہ کہ یتیم کا فائدہ ہو مثلًا یتیم کی حفاظت میں اس کے کھانے پینے کپڑے وغیرہ میں بہرحال مقصود اصلاح ہو اور یہ کہ ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو یعنی پیمانہ پوری طرح بھر کر اور ترازو سیدھی، ہم کسی شخص کو اس کے مقدور اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یعنی جو تکلیف دیتے ہیں وہ طاقت اور بساط کے موفاق ہوتی ہے اور یہ کہ جب تم کوئی بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ جس شخص کے مقابلہ میں بات کہتے ہو وہ تمہارا اپنا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو یعنی جب تم کوئی فیصلے کی بات کرو یا گواہی وغیرہ دو تو انصاف کا لحاظ کھو اگرچہ معاملہ والا اپنا قرابت دار ہی ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ سے جو عہد کرو اس کو پورا کرو یہ وہ باتیں ہی جن کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو اور غور و فکر سے کام لو۔
Top