Tafseer-e-Jalalain - Al-Baqara : 140
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا
اُولٰٓئِكَ : یہ لوگ الَّذِيْنَ : وہ جو کہ يَعْلَمُ اللّٰهُ : اللہ جانتا ہے مَا : جو فِيْ قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں میں فَاَعْرِضْ : تو آپ تغافل کریں عَنْھُمْ : ان سے وَعِظْھُمْ : اور ان کو نصیحت کریں وَقُلْ : اور کہیں لَّھُمْ : ان سے فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : ان کے حق میں قَوْلًۢا بَلِيْغًا : اثر کرجانے والی بات
(اے یہود و نصاریٰ ! ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے ؟ (اے محمد ﷺ ! ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا ؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے اور خدا اس سے غافل نہیں جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَھَادَۃً الخ یہ خطاب دراصل ان علماء یہود کو ہے جو خود بھی اس حقیقت سے ناواقف نہیں تھے کہ یہودیت اور عیسائیت اپنی موجودہ خصوصیات کے ساتھ بہت بعد میں پیدا ہوئی مگر اس کے باوجود وہ حق کو اپنے ہی فرقوں میں محدود سمجھتے تھے، نزول قرآن کے وقت یہود میں بڑے بڑے عالم فاضل موجود تھے ان سب کو چیلنج دیکر ایک امی کی زبان سے کہلایا جا رہا ہے کہ تم واقعات کو توڑ مروڑ کر صداقتوں کا گلانٹ کر کچھ بھی کہے جاؤ، واقعہ اور حقیقت اچریات جو کچھ ان حضرات کے دین کی بابت کہہ رہے ہیں جس کی تفصیل گزرچکی ہے وہ اسی قرآنی متن کی شرح اور اسی امی کے لائے ہوئے کلام کے اجمال کی تفصیل ہے۔
Top