Tafseer Ibn-e-Kaseer - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو
مبلغ حق شہید کردیا۔ مروی ہے کہ اس بستی کے لوگ یہاں تک سرکش ہوگئے کہ انہوں نے پوشیدہ طور پر نبیوں کے قتل کا ارادہ کرلیا۔ ایک مسلمان شخص جو اس بستی کے آخری حصے میں رہتا تھا جس کا نام حبیب تھا اور رسے کا کام کرتا تھا، تھا بھی بیمار، جذام کی بیماری تھی، بہت سخی آدمی تھا۔ جو کماتا تھا اس کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں خیرات کردیا کرتا تھا۔ دل کا نرم اور فطرت کا اچھا تھا۔ لوگوں سے الگ تھلگ ایک غار میں بٹھ کر اللہ عزوجل کی عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نے جب اپنی قوم کے اس بد ارادے کو کسی طرح معلوم کیا تو اس سے صبر نہ ہوسکا دوڑتا بھاگتا آیا۔ بعض کہتے ہیں یہ بڑھئی تھے۔ ایک قول ہے کہ یہ دھوبی تھے۔ عمر بن حکم فرماتے ہیں جوتی گانٹھنے والے تھے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔ انہوں نے آ کر اپنی قوم کو سمجھانا شروع کیا کہ تم ان رسولوں کی تابعداری کرو۔ ان کا کہا مانو۔ ان کی راہ چلو، دیکھو تو یہ اپنا کوئی فائدہ نہیں کر رہے یہ تم سے تبلیغ رسالت پر کوئی بدلہ نہیں مانگتے۔ اپنی خیر خواہی کی کوئی اجرت تم سے طلب نہیں کر رہے۔ درد دل سے تمہیں اللہ کی توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور سیدھے اور سچے راستے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ خود بھی اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ تمہیں ضرور ان کی دعوت پر لبیک کہنا چاہئے اور ان کی اطاعت کرنی چاہئے۔ لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی بلکہ انہیں شہید کردیا۔ ؓ وارضاہ۔
Top