Kashf-ur-Rahman - An-Noor : 18
وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ
وَيَسْئَلُوْنَكَ : اور وہ پوچھتے ہیں آپ سے عَنِ : سے (بارہ) الْمَحِيْضِ : حالتِ حیض قُلْ : آپ کہ دیں ھُوَ : وہ اَذًى : گندگی فَاعْتَزِلُوا : پس تم الگ رہو النِّسَآءَ : عورتیں فِي : میں الْمَحِيْضِ : حالت حیض وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ : اور نہ قریب جؤ ان کے حَتّٰى : یہانتک کہ يَطْهُرْنَ : وہ پاک ہوجائیں فَاِذَا : پس جب تَطَهَّرْنَ : وہ پاک ہوجائیں فَاْتُوْھُنَّ : تو آؤ ان کے پاس مِنْ حَيْثُ : جہاں سے اَمَرَكُمُ : حکم دیا تمہیں اللّٰهُ : اللہ اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ يُحِبُّ : دوست رکھتا ہے التَّوَّابِيْنَ : توبہ کرنے والے وَيُحِبُّ : اور دوست رکھتا ہے الْمُتَطَهِّرِيْنَ : پاک رہنے والے
اور اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اللہ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔
(18) اور اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے یعنی واضح احکام بیان فرماتا ہے کمال علم کا مالک ہے ہر شخص کے دل کی ندامت اور قلب کی حالت جانتا ہے اور کمال حکمت کا مالک ہے اپنے احکام کو مبنی پر حکمت مقرر کرتا ہے یا یہ کہ عائشہ ؓ کی پاک دامنی کو جانتا اور ہر قسم کے عیب اور عار س اس کو بری قرار دینے کا حکم کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پتا اس کا کہ یہ طوفان اٹھایا کس نے معلوم ہوا کہ منافقوں نے جو ہمیشہ چھپے دشمن تھے اگلی آیت میں پتا بتادیا۔ 12
Top