Jawahir-ul-Quran - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور آیا14 شہر کے پرلے سرے سے ایک مرد دوڑتا ہوا بولا اے قوم چلو راہ پر بھیجے ہوؤں کی
14:۔ وجاء رجل الخ، رجل سے حبیب بن مری نجار مراد ہے جو اسی بستی کے ایک کنارے رہتا تھا یہ نہایت نیک، فیاض اور سلیم الفطرت انسان تھا۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کو قبول کرچکا تھا۔ (قرطبی) ، جب قوم کا انکار وعناد انتہا کو پہنچ گیا اور انہوں نے پیغمبروں کو شہید کردینے کا ارادہ کرلیا تو یہ شخص اپنے گھر سے دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نہایت ہی ناصحانہ انداز میں تبلیغ کرنے لگا۔ میری قوم ! ان رسولوں کی بات مان لو جو اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ اور محض تمہاری بھلائی کے لیے تمہیں سیدھی راہ دکھاتے ہیں اور تبلیغ حق پر تم سے کچھ اجرت بھی نہیں مانگتے وہ ہیں بھی راہ راست پر۔ اللہ کی توحید اور شرک کے بارے میں ان کا موقف بالکل درست ہے وھم مھتدون فیما یدعونکم الیہ من عبادۃ اللہ وحدہ لا شریک لہ (ابن کثیر ج 3 ص 568) ۔
Top