Jawahir-ul-Quran - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
کہنے لگے تمہاری نامبارکی تمہارے ساتھ13 ہے کیا اتنی بات پر کہ تم کو سمجھایا کوئی نہیں پر تم لوگ ہو کہ حد پر نہیں رہتے
13:۔ قالوا طائرکم الخ، پیغمبروں نے جواب دیا شؤم و نحوست خود تمہارے اندر موجود ہے بارش کے بند ہونے کی وجہ تمہارا کفر و شرک اور طغیان و عصیان ہے۔ ائن ذکرتم۔ جزا محذوف ہے ای تطیرتم و جواب الشرط مضمر تقدیرہ لظیرتم (مدارک) کیا ہم نے تمہیں نصیحت کی ہے، اللہ کی توحید کی طرف بلایا ہے اور شرک سے روکا ہے اس لیے تم نے اس قسم کی لایعنی باتوں سے ہمارا مقابلہ شروع کردیا ہے اور ہمیں دھمکیاں دینے لگے ہو اور اپنے اعمال بد کی شامت کو ہماری طرف منسوب کرنے لگے ہو۔ نہایت بےانصاف اور حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔ ای من اجل انا ذکرنا کم و امرناکم بتوحید اللہ واخلاص العبادۃ لو قابلتمونا بہذا الکلام و توعدتمونا وتھدوتمونا (ابن کثیر ج 3 ص 567) ۔
Top