Jawahir-ul-Quran - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور تعجب کرنے لگے4 اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈر سنانے والا انہی میں سے اور کہنے لگے منکر یہ5 جادوگر ہے جھوٹا
4:۔ وعجبوا الخ : یہ زجر ہے یہاں سے بل ھم فی شک من ذکری، تک کفار مکہ کے استکبار وعناد کا ذکر ہے۔ منذر منہم : انہیں اس پر بھی حیرت اور تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر ان کی طرف بھیج دیا گیا ہے۔ (منذر منہم) رسول بشر من انفسہم (جامع البیان ص 389) ۔ 5:۔ وقال الکفرون الخ : یہ شکوی ہے کفار کے عناد کا۔ کافروں نے کہا یہ تو کوئی جادوگر ہے۔ اس کے ہاتھ پر جادوگروں کی طرح شعبدے ظاہر ہوتے ہیں اور وحی و نبوت کے دعوے میں جھوٹا ہے۔ خدا پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (العیاذ باللہ) ۔ معجزات کو جادو کے شعبدات قرار دینا اور ایک ایسے راست گو انسان کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا جس نے ساری زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو۔ سراسر ضد وعناد پر مبنی ہے۔
Top