Maarif-ul-Quran - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور دیا ہم نے داؤد کو سلیمان بہت خوب بندہ وہ ہے رجوع ہونے والا
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے داؤد ؑ کو سلیمان (علیہ السلام فرزند) عطا کیا بہت اچھے بندے تھے کہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہونے والے تھے (چنانچہ ان کا وہ قصہ یاد رکھنے کے لائق ہے) جبکہ شام کے وقت ان کے روبرو اصیل (اور) عمدہ گھوڑے (جو بغرض جہاد وغیرہ رکھے جاتے تھے) پیش کئے گئے (اور ان کے ملاحظہ کرنے میں اس قدر دیر ہوگئی کہ دن چھپ گیا اور کوئی معمول از قسم نماز فوت ہوگیا اور بوجہ ہیبت و جلالت کے کسی خادم کی جرأت نہ ہوئی کہ مطلع و متنبہ کرے، پھر جب خود ہی تنبہ ہوا) تو کہنے لگے کہ (افسوس) میں اس مال کی محبت کی خاطر (لگ کر) اپنے رب کی یاد سے (یعنی نماز سے) غافل ہوگیا، یہاں تک کہ آفتاب پردہ (مغرب) میں چھپ گیا (پھر خادموں کو حکم دیا کہ) ان گھوڑوں کو ذرا پھر تو میرے سامنے لاؤ (چنانچہ لائے گئے) سو انہوں نے ان (گھوڑوں) کی پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار سے) ہاتھ صاف کرنا شروع کیا (یعنی ان کو ذبح کر ڈالا)۔

معارف و مسائل
ان آیتوں میں حضرت سلیمان ؑ کا ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس واقعہ کی مشہور تفسیر وہی ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں ذکر کی گئی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ گھوڑوں کے معائنہ میں ایسے مشغول ہوئے کہ عصر کا وقت جو نماز پڑھنے کا معمول تھا وہ چھوٹ گیا، بعد میں متنبہ ہو کر آپ نے ان تمام گھوڑوں کو ذبح کر ڈالا کہ ان کی وجہ سے یاد الٰہی میں خلل واقع ہوا تھا۔
یہ نماز نفلی بھی ہو سکتی ہے۔ اور اس صورت میں کوئی اشکال نہیں، کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اتنی غفلت کی بھی تلافی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرض نماز ہو، اور معائنہ میں لگ کر بھول طاری ہوگئی ہو، بھول جانے کی صورت میں فرض نماز کے قضا ہونے سے گناہ تو نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت سلیمان ؑ نے اپنے بلند منصب کے پیش نظر اس کا بھی تدارک فرمایا۔
ان آیات کی یہ تفسیر متعدد ائمہ تفسیر سے منقول ہے، اور حافظ ابن کثیر جیسے محقق عالم نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔ اور اس کی تائید ایک مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے جو علامہ سیوطی نے معجم طبرانی اسماعیلی اور ابن مردویہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔
عن ابی بن کعب عن النبی ﷺ فی قولہ فطفق مسحاً بالسوق والاعناق قال قطع سو تھا واھنا تھا بالسیف)
علامہ سیوطی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ (درمنثور ص 903 ج 5) اور علامہ ھثیمی مجمع الزوائد میں یہ حدیث نقل کر کے لکھتے ہیں۔
”اسے طبرانی نے اوسط میں روایت کیا ہے اس میں ایک راوی سعید بن بشیر ہیں، جنہیں شعبہ وغیرہ نے ثقہ کیا ہے، اور ابن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے اور اس کے باقی رجال ثقہ ہیں“ (مجمع الزوائد ص 99 ج 7 کتاب التفسیر)
اس حدیث مرفوع کی وجہ سے یہ تفسیر کافی مضبوط ہوجاتی ہے لیکن اس پر عموماً یہ شبہ ہوتا ہے کہ گھوڑے اللہ کا عطا کیا ہوا ایک انعام تھا، اور اپنے مال کو اس طرح ضائع کردینا ایک نبی کے شایان شان معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن مفسرین نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ گھوڑے حضرت سلیمان ؑ کی ذاتی ملکیت میں تھے، اور ان کی شریعت میں گائے، بکری، اونٹ کی طرح گھوڑوں کی قربانی بھی جائز تھی، لہٰذا انہوں نے گھوڑوں کو ضائع نہیں کیا بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے نام پر قربان کردیا۔ جس طرح گائے، بکری کی قربانی سے ان کو ضائع کرنا لازم نہیں آتا، بلکہ یہ عبادت ہی کا ایک شعبہ ہے، اسی طرح یہاں بھی عبادت ہی کے طور پر ان کی قربانی پیش کی گئی۔ (روح المعانی)
اکثر حضرات مفسرین نے آیت کی یہی تفسیر کی ہے، لیکن ان آیات کی ایک اور تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے جس میں واقعہ بالکل مختلف طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے سامنے وہ گھوڑے معائنہ کے لئے پیش کئے گئے جو جہاد کے لئے تیار کئے گئے تھے۔ حضرت سلیمان ؑ انہیں دیکھ کر مسرور ہوئے۔ اور ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں سے جو محبت اور تعلق خاطر ہے وہ دنیا کی محبت سے نہیں، بلکہ اپنے پروردگار ہی کی یاد کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ جہاد کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔ اور جہاد ایک اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔ اتنے میں گھوڑوں کی وہ جماعت آپ کی نگاہوں سے روپوش ہوگئی۔ آپ نے حکم دیا کہ انہیں دوبارہ سامنے لایا جائے۔ چناچہ جب وہ دوبارہ سامنے آئے تو آپ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔
اس تفسیر کے مطابق عن ذکر ربی میں عن سبیہ ہے۔ اور تو ارت کی ضمیر گھوڑوں ہی کی طرف راجع ہے، اور مسح سے مراد کاٹنا نہیں، بلکہ محبت سے ہاتھ پھیرنا ہے۔
قدیم مفسرین میں سے حافظ ابن جریر طبری اور امام رازی وغیرہ نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے، کیونکہ اس پر مال ضائع کرنے کا شبہ نہیں ہوتا۔
قرآن کریم کے الفاظ کے لحاظ سے دونوں تفسیروں کی گنجائش ہے، لیکن پہلی تفسیر کے حق میں چونکہ ایک مرفوع حدیث آگئی ہے جو سند کے اعتبار سے حسن ہے، اسی لئے اس کی قوت بڑھ جاتی ہے۔
Top