Jawahir-ul-Quran - Al-Baqara : 139
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ
وَاِذْ : اور جب قَالَ : کہا مُوْسٰى : موسیٰ لِقَوْمِهٖ : اپنی قوم کو يٰقَوْمِ : اے میری قوم اذْكُرُوْا : تم یاد کرو نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت عَلَيْكُمْ : اپنے اوپر اِذْ : جب جَعَلَ : اس نے پیدا کیے فِيْكُمْ : تم میں اَنْۢبِيَآءَ : نبی (جمع) وَجَعَلَكُمْ : اور تمہیں بنایا مُّلُوْكًا : بادشاہ وَّاٰتٰىكُمْ : اور تمہیں دیا مَّا : جو لَمْ يُؤْتِ : نہیں دیا اَحَدًا : کسی کو مِّنَ : سے الْعٰلَمِيْنَ : جہانوں میں
اے قوم داخل ہو50 زمین پاک میں جو مقرر کردی ہے اللہ نے تمہارے واسطے اور نہ لوٹو اپنی پیٹھ کی طرف پھر جا پڑو گے نقصان میں
50 یٰقَوْمِ ادْخُلُوْا الْاَرضَ الْمُقَدَّسَۃَ الخ حضرت ابن عباس، ابن زید اور سدی کا قول ہے کہ ارض مقدسہ سے بیت المقدس مراد ہے اسے ارض مقدسہ (پاک زمین) اس لیے کہا گیا کہ وہ قدیم سے انبیاء کرام (علیہم السلام) کا مسکن چلا آرہا تھا اور شرک کی نجاست سے پاک تھا۔ ووصفت تلک الارض بذالک لانھا مطہرۃ من الشرک حیث جعلت مسکن الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام (روح ص 106 ج 6) اَلَّتِیْ کَتَبَ اللہُ لَکُمْ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ وہ تمہارا مسکن ہوگا۔ کتب فی اللوح المحفوظ انھا مسکن لکم (مدارک ج 1 ص 216) لیکن پیچھے نہ ہٹنا ورنہ دین و دنیا کا خسارہ اٹھاؤ گے۔ ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم حقیقت میں جہاد کا حکم تھا۔ کیونکہ اس پر ایک بڑی طاقتور کافر قوم قابض تھی جب تک اس قابض قوم سے جہاد کر کے وہ علاقہ اس سے چھین نہ لیا جاتا اس وقت تک بنی اسرائیل اس میں آرام و چین سے نہیں رہ سکتے تھے۔
Top