Tafseer-e-Majidi - Al-Baqara : 50
لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ
لَوْلَآ : کیوں نہ اِذْ : جب سَمِعْتُمُوْهُ : تم نے وہ سنا ظَنَّ : گمان کیا الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن مردوں وَالْمُؤْمِنٰتُ : اور مومن عورتوں بِاَنْفُسِهِمْ : (اپنوں کے) بارہ میں خَيْرًا : نیک وَّقَالُوْا : اور انہوں نے کہا ھٰذَآ : یہ اِفْكٌ : بہتان مُّبِيْنٌ : صریح
آیا ان کے دلوں میں مرض ہے یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم نہ کرنے لگیں (نہیں) بلکہ یہ لوگ تو خود ہی ظالم ہیں،104۔
104۔ (اور چونکہ خود برسر ظلم ہوتے ہیں) اس لیے ان مقدمات کو حضور نبوی میں لانے سے پہلو بچاتے ہیں کہ وہاں تو قلعی کھل کررہے گی) (آیت) ’ ’ افی قلوبھم مرض “۔ مرض سے مراد کفر قطعی ہے۔ یعنی آیا یہ انکار نبوت پر جرم میں مبتلا ہیں۔ (آیت) ’ ام ارتابوا “۔ یعنی آیا یہ نبوت و رسالت کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
Top