Tafseer-e-Madani - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
(چنانچہ وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان بنانے والا ہوں مٹی (گارے) سے
82 تخلیق آدم کی تذکیر و یاددہانی : " بشراً " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی ایک عظیم الشان بشر و انسان۔ اور ظاہر ہے کہ جس کے بارے میں حق ۔ جل مجدہ ۔ خود فرمائے کہ میں نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے پھر اپنی خاص عنایت سے وہ اس میں اپنی طرف سے روح پھونک کر اسے زندگی بخشے اور اسے تاج خلافت سے سرفراز فرمائے اس سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور اس کی عظمتوں کے کیا کہنے ؟ پھر سوچو کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی اور نمک حرامی ہے کہ یہ انسان اسی قادر مطلق رحمان و رحیم خداوند قدوس کو بھول جائے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس کے در اقدس کو چھوڑ کر یہ غیروں کے آگے جھک جائے۔ اور ان کے آگے سجدہ ریز ہو کر اپنی تذلیل و تباہی کا سا مان کرے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ شَائِبَۃِ من شوائب الزَّیْغِ وَ الضَّلال والظُّلْمِ وَ الاِنْحِرَافِ ۔ بہرکیف یہاں سے یہ حقیقت بھی ایک مرتبہ پھر واضح فرما دی گئی کہ حضرت آدم بشر اور خاکی انسان تھے۔ اور آپ کی نسل میں پیدا ہونے والے تمام انبیائے کرام بھی خاکی انسان اور بشر ہی تھے۔ اور ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد ﷺ تو اپنے بارے میں صرف ابن آدم ہی نہیں بلکہ " سید ولد آدم " ۔ " تمام اولاد آدم کے سردار " ہونے کی تصریح فرماتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک انبیائے کرام کی بشریت طاہرہ کا انکار کرتا ہے اور وہ اسے ان کی توہین قرار دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر قصہ آدم و ابلیس کی تذکیر و یاددہانی سے یہ درس دیا جا رہا ہے کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حق سے منہ موڑنا اور اعراض برتنا ابلیس لعین کا شیوہ اور اسکا طریقہ ہے۔ اور آج کے کفار و مشرکین جو اسی زعم اور گھمنڈ کی بنا پر حق سے منہ موڑتے اور اعراض برتتے ہیں وہ اسی ابلیسی سنت پر چل رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Top