Tafseer-e-Madani - Saad : 81
اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ
اِلٰى : تک يَوْمِ : دن الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ : وقت معین
اس دن تک جس کا وقت معلوم ہے (مجھے)1
90 شیطان کے لیے مہلت کا اعلان : سو ابلیس کی ابلیسانہ ذہنیت کا ایک اور منظر اس طرح سامنے آیا کہ اس نے اپنی اس تحقیر و تذلیل اور محرومی پر معذرت کرنے اور معافی مانگنے کی بجائے اپنے لیے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تو اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ " تجھے مہلت ہے وقت معلوم تک "۔ یعنی نفخہ اولیٰ تک جبکہ سب لوگ مرجائیں گے اور عمل کی مہلت ختم ہوجائے گی۔ سو تجھے یوم بعث تک تو مہلت نہیں مل سکتی جیسا کہ تو نے سوال اور مطالبہ کیا ہے۔ البتہ نفخہ موت تک تجھے مہلت دے دی گئی ہے۔ سو یہ اس حلیم مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے حلم بےپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اتنے بڑے طاغی و سرکش کو بھی اس نے اتنی طویل مہلت دے دی۔ سو کسی بھی گناہ گار کو گناہ پر ملنے والی مہلت سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے خواہ وہ مہلت کتنی ہی دراز کیوں نہ ہو کہ اس کا حلم بہت بڑا اور اس کی چال بڑی ہی مضبوط اور پختہ ہے۔ جیسا کہ اس کا اپنا صاف وصریح ارشاد و اعلان ہے ۔ { وَاُمْلِیْ لَہُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ } ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّ زَیْغٍ وَضَلالٍ وانحِرَاف وَہُوَ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالُ وَاِیَّاہُ نَسْأَلُ اَنْ یَأخُذَنَا بِنَوَاصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبُّہ وَالِرَّضَائُ جَلَّ وَعَلا ۔ بہرکیف اس طرح ابلیس لعین کو قیامت تک انسان کیخلاف زور آزمائی کرنے اور اپنی شیطنت کو پھیلانے کا موقع دے دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Top