Urwatul-Wusqaa - Saad : 81
اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ
اِلٰى : تک يَوْمِ : دن الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ : وقت معین
اس دن تک جس کا وقت معلوم ہے (کہ ہرچیز فنا ہوجائے گی)
عطا کی گئی ڈھیل اور مہلت کا وقت بھی متعین کردیا گیا 81 ۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے ابلیس کا مہلت طلب کرنا اس کی فطرت کے تقاضا کا بیان ہے اور اسی فطرت کے تقاضا کے مطابق اس کو ڈھیل ومہلت ملنا بھی ناگزیر تھا چناچہ اس کی مطلوبہ مہلت اس کو اس دنیا کے قیام تک دی گئی اور جب قدرت خداوندی نے اس کو ڈھیل دے دی تو اب کون مائی کا لال ہے کہ اس کو معدوم کرسکے گویا جب تک انسان اس دنیا میں موجود ہے اس کے دم کے ساتھ اس کا دم ہے۔ قرآن ِ کریم کی یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات کریمات اس پر کھلی دلیل ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے یہ ارشادات کہ وہ انسان کے جسم میں اس طرح چلتا ہے جس طرح خون چلتا ہے اس کی مزید وضاھت پیش کردیتے ہیں اور انہی آیات و احادیث کی روشنی میں جب ہم کہتے ہیں کہ وہ انسان کے جسم میں موجود ہے اور خارج از انسان کوئی چیز نہیں اس تفہیم کے لیے یہ سوانگ رچا کر اس کو مشخص بیان کیا گیا ہے جو عین فطرتِ انسانی کے مطابق ہے تو ملائیت لٹھ لے کر ہمارے پیچھے لگ جاتی ہے کہ شاید ان کی ملائیت پر یہ ایک حملہ ہے حلان کہ ملاں اگر انسان ہے تو یہ اس کی فطرت کا بھی بیان ہے کیونکہ فطرتِ انسانی ہی کے لیے یہ پیرایہ اختیار کیا گیا ہے تاکہ ہر ذہن وفکر کا زانسان اس کی تفہیم کرسکے اور بات کو عام فہم کر دیناہی کلام الہٰی کا کمال ہے جو دوسرے کلام میں نہیں ملتا۔
Top