Aasan Quran - An-Noor : 63
سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ
سُوْرَةٌ : ایک سورة اَنْزَلْنٰهَا : جو ہم نے نازل کی وَفَرَضْنٰهَا : اور لازم کیا اس کو وَاَنْزَلْنَا : اور ہم نے نازل کیں فِيْهَآ : اس میں اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح آیتیں لَّعَلَّكُمْ : تاکہ تم تَذَكَّرُوْنَ : تم یاد رکھو
(اے لوگو) اپنے درمیان رسول کو بلانے کو ایسا (معمولی) نہ سمجھو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو (48) اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لے کر چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ لہذا جو لوگ اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آپڑے، یا انہیں کوئی دردناک عذاب نہ آپکڑے۔
48: برابر کے آدمی جب ایک دوسرے کو بلاتے ہیں تو اس کی زیادہ اہمیت نہیں سمجھی جاتی، اگر کوئی اس کے جواب میں نہ جائے تو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا، اور اگر چلا بھی جائے تو بغیر اجازت کے واپس آجانے کو بھی گوارا کرلیا جاتا ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ تمہیں کسی کام کے لئے بلائیں تو اسے آپس کا بلانا نہ سمجھو، چاہے گئے چاہے نہ گئے، بلکہ اہتمام کرکے جانا ہی ضروری ہے، دوسرے یہ بات بھی معمولی نہ سمجھو کہ جب چاہو بلا اجازت اٹھ کر چلے آؤ، بلکہ جب کہیں جانا ہو تو آپ سے اجازت لے کر جاؤ۔ اسی آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ممکن ہے کہ جب تم حضور اقدس ﷺ کو مخاطب کرو تو اس طرح نہ کرو جیسے ایک دوسرے کو نام لے کر مخاطب کرتے ہو، لہذا یا محمد کہہ کر نہ بلاؤ، بلکہ آپ کو تعظیم کے ساتھ یا رسول اللہ کہہ کر مخاطب کرو۔
Top