Madarik-ut-Tanzil - Al-Baqara : 62
یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ
يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل کتاب قَدْ جَآءَكُمْ : تحقیق تمہارے پاس آئے رَسُوْلُنَا : ہمارے رسول يُبَيِّنُ : وہ کھول کر بیان کرتے ہیں لَكُمْ : تمہارے لیے عَلٰي : پر (بعد) فَتْرَةٍ : سلسلہ ٹوٹ جانا مِّنَ : سے (کے) الرُّسُلِ : رسول (جمع) اَنْ : کہ کہیں تَقُوْلُوْا : تم کہو مَا جَآءَنَا : ہمارے پاس نہیں آیا مِنْ : کوئی بَشِيْرٍ : خوشخبری دینے والا وَّلَا : اور نہ نَذِيْرٍ : ڈرانے والا فَقَدْ جَآءَكُمْ : تحقیق تمہارے پاس آگئے بَشِيْرٌ : خوشخبری سنانے والے وَّنَذِيْرٌ : اور ڈرانے والے وَاللّٰهُ : اور اللہ عَلٰي : پر كُلِّ شَيْءٍ : ہر شے قَدِيْرٌ : قدرت والا
یہ تحقیقی بات ہے کہ مسلمان اور یہودی اور نصارٰے اور فرقہٴ صابئین (ان سب میں) جو شخص یقین رکھتا ہو اللہ تعالیٰ (کی ذات اور صفات پر) اور روز قیامت پر اور کارگزاری اچھی کرے ایسوں کے لیے ان کا حق الخدمت بھی ہے ان کے پروردگار کے پاس اور (وہاں جاکر) کسی طرح کا اندیشہ نہیں ان پر اور نہ وہ مغموم ہونگے۔ (ف 3) (62)
3۔ حاصل قانون کا ظاہر ہے کہ جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیساہی ہو ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور رہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان ہوجاوے گا مستحق اجرونجات اخروی ہوگا۔
Top