Siraj-ul-Bayan - Al-Baqara : 31
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ
اِنَّ : بیشک الَّذِیْنَ : جو لوگ اٰمَنُوْا : ایمان لائے وَالَّذِیْنَ : اور جو لوگ هَادُوْا : یہودی ہوئے وَالنَّصَارَىٰ : اور نصرانی وَالصَّابِئِیْنَ : اور صابی مَنْ : جو اٰمَنَ : ایمان لائے بِاللّٰہِ : اللہ پر وَالْيَوْمِ الْآخِرِ : اور روز آخرت پر وَعَمِلَ صَالِحًا : اور نیک عمل کرے فَلَهُمْ : تو ان کے لیے اَجْرُهُمْ : ان کا اجر ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس وَلَا خَوْفٌ : اور نہ کوئی خوف ہوگا عَلَيْهِمْ : ان پر وَلَا : اور نہ هُمْ : وہ يَحْزَنُوْنَ : غمگین ہوں گے
اور اس نے آدم (علیہ السلام) کو سب چیزوں کے نام سکھائے پھر انکو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا تم مجھے ان چیزوں کے نام بتلاؤ ، اگر تم سچے ہو ۔ (ف 3)
3) پہلا انسان عالم تھا : اللہ نے ایک جواب تو فرشتوں کو یہ دیا کہ تم خاموش رہو ۔ دوسرا جواب آدم (علیہ السلام) کی قوتوں کا مظاہرہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی فطرت میں علم کا جذبہ رکھا ، اسے تمام ضروریات سے آگاہ کیا ، معارف حیات بتلائے اور فرشتوں کے سامنے بحیثیت ایک عالم کے پیش کیا ۔ فرشتے بھی عالم تھے مگر تسبیح و تقدیس کے آئین و قانون کے فرمانبرداری و اطاعت کے طریقوں کے ، انہیں حیات وفنا کے اسرار سے ناآشنا رکھا گیا ، موت وزیست کے جھمیلوں سے الگ ، یہ بغیر کسی کھٹکے اور خرخشے کے عبادت و اطاعت میں مصروف تھے ، آدم (علیہ السلام) کو جو علم دیا گیا وہ فرشتوں کے علم سے بالکل مختلف تھا ، اسے مقتضیات انسانی بتائے گئے ، موت وحیات کا فرق سمجھایا گیا ، عبادت و اطاعت کے علاوہ دنیا کی آبادی وعمران کے اسرار و رموز سے بہرہ ور کیا گیا ۔ سیاست وحکمرانی کے اصول و ضوابط انہیں سکھائے گئے اور وہ تمام چیزیں بتلائی گئیں جو اسے خلیفۃ اللہ بنا سکیں ، فرشتوں کی حیثیت مطیع وفرمانبردار کی تھی اور آدم کی خلافت اس کے وارث کی ، اس لئے جب موازنہ کے وقت فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کے منصب رفیع کا علم ہوا تو معذرت خواہ ہوئے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نہ کہتا تھا ۔ (آیت) ” انی اعلم غیب السموت والارض “۔ کو غیوب کا لعم صرف مجھے ہے تم نہیں جانتے ۔ حل لغات : ملآئکۃ : جمع ملک ، فرشتہ ، یسفک مضارع معلوم ، مصدر ، سفک ۔ خون بہانا ، انبؤنی ، مجھے بناؤ ، مادہ انباء ، خبر دینا ۔
Top