Tadabbur-e-Quran - Al-A'raaf : 158
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ
سَاَصْرِفُ : میں عنقریب پھیر دوں گا عَنْ : سے اٰيٰتِيَ : اپنی آیات الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو يَتَكَبَّرُوْنَ : تکبر کرتے ہیں فِي الْاَرْضِ : زمین میں بِغَيْرِ الْحَقِّ : ناحق وَاِنْ : اور اگر يَّرَوْا : وہ دیکھ لیں كُلَّ اٰيَةٍ : ہر نشانی لَّا يُؤْمِنُوْا : نہ ایمان لائیں بِهَا : اس پر وَاِنْ : اور اگر يَّرَوْا : دیکھ لیں سَبِيْلَ : راستہ الرُّشْدِ : ہدایت لَا يَتَّخِذُوْهُ : نہ پکڑیں (اختیار کریں) سَبِيْلًا : راستہ وَاِنْ : اور اگر يَّرَوْا : دیکھ لیں سَبِيْلَ : راستہ الْغَيِّ : گمراہی يَتَّخِذُوْهُ : اختیار کرلیں اسے سَبِيْلًا : راستہ ذٰلِكَ : یہ بِاَنَّهُمْ : اس لیے کہ انہوں نے كَذَّبُوْا : جھٹلایا بِاٰيٰتِنَا : ہماری آیات کو وَكَانُوْا : اور تھے عَنْهَا : اس سے غٰفِلِيْنَ :غافل (جمع)
کہہ دو ، اے لوگو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ اس اللہ کا جس کے لیے ہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ وہی جلاتا اور وہی مارتا ہے، پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے نبی امی رسول پر جو ایمان رکھتا ہے اللہ اور اس کے کلمات پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ یاب ہو
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔ جب بات نبی ﷺ کے ذکر تک پہنچ گئی تو برسر موقع آپ کی زبان مبارک سے بنی اسرائیل کو ایمان لانے کی دعوت بھی دلوا دی گئی کہ اے لوگو، میں تم سب لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ سب لوگوں کی طرف، یعنی بنی اسماعیل و بنی اسرائیل، عرب اور غیر عرب سب کی طرف۔ اوپر کی پیشنگوئیوں میں بھی تصریح ہے کہ اگرچہ آپ کی بعثت بنی اسمعیل میں ہوگی لیکن آپ کی رسالت سب کی طرف ہوگی اور دنیا کی سب قومیں آپ کی برکات میں سے حصہ پائیں گی۔ اہل عرب پر، عام اس سے کہ وہ بنی اسماعیل ہوں یا بنی اسرائیل، آپ نے اللہ کی حجت براہر راست قائم کی اور وقت کے ملوک و سلاطین کو بھی آپ نے دعوت دی اور آپ کے بعد اس دعوت و شہادت کی ذمہ داری قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر ڈالی جس کو شہداء اللہ فی الارض کے منصب عالی پر سرفراز فرمایا۔ الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یعنی آسمان و زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے جس کا میں رسول ہو کر آیا ہوں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اسی کے اختیار میں قوموں کا عزل و نصب ہے تو کسی بےجا عصبیت، کسی غلط اعتماد اور کسی بےبنیاد غرور و گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اللہ اور اس کے نبی امی رسول پر جس کی پیشنگوئیوں تہاری اپنی کتابوں میں موجود ہیں ایمان لانے سے گریز نہ اختیار کرو ، الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ ، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو اوپر حضرت موسیٰ کی پیشنگوئی میں مذکور ہوئی ہے کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہ وہی لوگوں سے کہے گا، مطلب یہ ہوا کہ نبی کے اس دعوائے نبوت اور اس کی اس دعوت کو کسی وہم، کسی خیال اور دوسروں پر برتری اور سیادت حاصل کرنے کی کسی خواہش پر مبنی نہ سمجھو، یہ تو وہی کچھ تمہیں سنایا جا رہا ہے جو اللہ کی طرف سے آ رہا ہے۔ پیغمبر خود اللہ پر اور اس کی ان باتوں پر ایمان رکھتا ہے اور اسی ایمان کی دعوت تمہیں دے رہا ہے۔ یہ اس کی اپنی کوئی ایجاد نہیں ہے۔ دوسرے اس میں وہ دھمکی بھی مضمر ہے جو اوپر والی پیشنگوئی میں مذکور ہے کہ چونکہ یہ خدا کی بھیجی ہوئی چیز ہے اس وجہ سے اس میں پیغمبر کی طرف سے کسی کمی بیشی، کسی حذف و اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر پیغمبر نے اس کی تبلیغ میں کوئی مداہنت برتی تو خدا اس سے اس کا مواخذہ فرمائے گا اور اگر لوگوں نے اس سارے اہتمام کے باوجود اس کا حق نہ پہچانا تو ان سے مواخذہ ہوگا۔
Top