Tafseer-e-Majidi - Saad : 83
اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ
اِلَّا : سوائے عِبَادَكَ : تیرے بندے مِنْهُمُ : ان میں سے الْمُخْلَصِيْنَ : (جمع) مخلص
بجز ان میں سے ان بندوں کے جو منتخب کرلئے گئے ہیں،71۔
71۔ ابلیس اپنے سارے دم خم، اور اتنے بلند بانگ دعو وں کے باوجود حق تعالیٰ کے ان بندوں کے سامنے شروع ہی سے ہار مانے ہوئے ہے جو اپنے کو اس کے اثرات سے بچانے کی فکر واہتمام میں لگے ہوتے ہیں اور ان کے حق میں اسے اغواء تک کی ہمت نہیں ہوتی۔ (آیت) ” الا ...... المخلصین “۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ کہا ہے کہ ابلیس نے یہ استثناء کرکے اپنی سچائی کو قائم رکھا، یعنی اندھا دھند یہ دعوی نہیں کر بیٹھا کہ میں سارے ہی انسانون کو بہکالوں گا، بلکہ اللہ کے نیک وپارسا بندوں کو اس سے مستثنی کردیا، تو جھوٹ ایسی گندی چیز ہے جس سے ابلیس تک حیا آئی، تو اس مسلمان کی حالت پر حیف ہے جو مومن ہو کر جھوٹ سے پرہیز نہ کرے ! وعند ھذا یقال ان الکذب شحتیء یستنکف منہ ابلیس فیکف یلیق بالمسلم الاقدام علیہ (کبیر) (آیت) ” لاغوینھم اجمعین “۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ شیطان اس فقرہ میں اغواء کو اپنی ذات کی جانب منسوب کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس باب میں وہ حیران ومترددہی ہے، وھذا یدل انہ متحیر فی ھذہ المسلہ (کبیر) (آیت) ” لاغوینھم “ لفظ اغواء پر خوب غور کرلیا جائے، اغواء کی حقیقت صرف وسوسہ اندازی کی ہے، ابلیس کے میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہ وہ معصیتوں اور نافرمانیوں کو خوشنما اور خوش رنگ بنا کر پیش کردے، وہ زیادہ بس یہی کرسکتا ہے، اور اس سے آگے اپنے فخریہ اور تعلی آمیز دعو وں کے وقت بھی نہیں بڑھتا۔
Top