Tafseer-e-Mazhari - Al-Maaida : 77
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا
فقال انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی پھر اس نے کہا : (افسوس) میں اس مال کی محبت میں (لگ کر) اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا۔ الْخَیْرِکثیر مال ‘ مراد وہ گھوڑے جن کے معائنہ میں مشغول رہنے کی وجہ سے عصر کی نماز فوت ہوگئی تھی ‘ یا یوں کہا جائے کہ خیر کا اطلاق خیل (گھوڑوں) پر (اصالۃً اور لغۃً ) عربی میں کیا ہی جاتا ہے ‘ عرب راء کی جگہ لام اور لام کی جگہ راء بول دیتے ہیں جیسے اِخْتَلْتُْ کی جگہ اِخْتَرْتُ (میں نے اس کو دھوکا دیا) کہہ دیتے ہیں۔ گھوڑوں کو خیر کہنے کی یہ وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ گھوڑوں کی پیشانیوں سے خیر وابستہ ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : روز قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں سے خیر وابستہ رہے گی ‘ ثواب اور مال غنیمت۔ رواہ الشیخان فی صحیحہما عن صحابۃٍ عدیدۃ۔ عربی کا اصل ضابطہ یہ ہے کہ جب احببت کا معنی اٰثرت (میں نے ترجیح دی) لیا جائے تو اس کے بعد علٰی آنا چاہئے (عَنْ نہیں آنا چاہئے) اور عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ کی بجائے علٰی ذِکْرِ رَبِّیْہونا چاہئے) لیکن اس جگہ چونکہ ترجیح دینے کے اندر اعراض کا مفہوم بھی ہے ‘ اسلئے علیٰ کی جگہ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ کہا گیا۔ بعض اہل لغت نے کہا : اَحْبَبْتُکا معنی ہے بیٹھ رہا اور حُبّ الخیرمفعول لہ ہے اور بیٹھے رہنے کی علت ہے (یعنی گھوڑوں کی محبت کی وجہ سے بیٹھا رہا) ۔ حتی تو ارت بالحجاب یہاں تک کہ آفتاب (مغرب کے) پردہ میں چھپ گیا۔ عشیکا لفظ چونکہ آفتاب پر (ضمناً یا التزاماً ) دلالت کر رہا تھا ‘ اسلئے (لفظ شمس کا ذکر کرنے کے بغیر) تَوَارَتْکی ضمیر آفتاب کی طرف راجع کردی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے : لوگ کہتے ہیں کہ حجاب ایک پہاڑ ہے جو کوہ قاف سے پرے ایک سال کی مسافت پر ہے ‘ سورج اس کی آڑ میں غروب ہوتا ہے۔
Top