Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Baqara : 122
وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠   ۧ
وَاِنْ : اور اگر كُنْتُمْ : تم ہو عَلٰي : پر سَفَرٍ : سفر وَّلَمْ : اور نہ تَجِدُوْا : تم پاؤ كَاتِبًا : کوئی لکھنے والا فَرِھٰنٌ : تو گرو رکھنا مَّقْبُوْضَةٌ : قبضہ میں فَاِنْ : پھر اگر اَمِنَ : اعتبار کرے بَعْضُكُمْ : تمہارا کوئی بَعْضًا : کسی کا فَلْيُؤَدِّ : تو چاہیے کہ لوٹا دے الَّذِي : جو شخص اؤْتُمِنَ : امین بنایا گیا اَمَانَتَهٗ : اس کی امانت وَلْيَتَّقِ : اور ڈرے اللّٰهَ : اللہ رَبَّهٗ : اپنا رب وَلَا تَكْتُمُوا : اور تم نہ چھپاؤ الشَّهَادَةَ : گواہی وَمَنْ : اور جو يَّكْتُمْهَا : اسے چھپائے گا فَاِنَّهٗٓ : تو بیشک اٰثِمٌ : گنہگار قَلْبُهٗ : اس کا دل وَاللّٰهُ : اور اللہ بِمَا : اسے جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو عَلِيْم : جاننے والا
اے اولاد یعقوب میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہل عالم پر فضیلت بخشی
(122 ۔ 123) ۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہود ان نعمتوں کو بھول گئے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بڑوں پر کی تھیں جن کے سبب سے وہ نبی زادے اور بادشاہ زادے کہلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ان کو ہوشیار کرنے کے لئے پہلے یا بنی اسرائیل کے لفظ سے ان کو مخاطب کیا ہے اور پھر اپنی نعمتوں کو یاد دلایا ہے تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ جو اللہ نعمتوں کے دینے پر قادر ہے وہ ایک دم میں اپنی نعمتیں چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ محمد رسول ﷺ ایک تو اللہ کے رسول ہیں جس بات کو ان کے دل خوب ہی جانتے ہیں کیونکہ اس پر ان کی کتاب پوری گواہی دیتی ہے۔ دوسرے وہ ان کے چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ اتنی مدت اولاد اسحاق میں نبوت رہی اب اگر بنی اسماعیل میں ایک نبی ہوئے تو اس پر ان کو اس قدر حسد کیوں ہے جس کے سبب سے اللہ کی نافرمانی اور اس سے اپنی بربادی کے یہ لوگ دن بدن درپے ہوتے جاتے ہیں۔ باوجود اللہ کی اس قدر فہمایش کے یہود نے اللہ تعالیٰ کی نصیحت کو نہ مانا۔
Top