Ruh-ul-Quran - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! رسولوں کی پیروی کرو
وَجَـآئَ مِنْ اَقْصَاالْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی قَالَ یٰـقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اتَّبِعُوْا مَنْ لاَّیَسْئَلُکُمْ اَجْرًا وَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 20، 21) (اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! رسولوں کی پیروی کرو۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے اور وہ ٹھیک راستے پر ہیں۔ ) ایک مخلص کی حمیت حق اور قوم کو دعوت محولہ بالا رسولوں کی دعوت اور مخالفین کی مخالفت کوئی ایک دن کی بات نہیں یقینا عرصہ دراز تک یہ سلسلہ چلا ہوگا۔ اور اس کشمکش میں مختلف نشیب و فراز آئے ہوں گے۔ تینوں رسولوں نے کبھی ایک ساتھ اور کبھی الگ الگ شہر کے مختلف مراکز کو اپنی تبلیغ و دعوت کا ہدف بنایا ہوگا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شہر بھر میں اس کشمکش کی بات پھیل گئی۔ کچھ اس کے ہمدرد پیدا ہوئے اور کچھ لوگوں نے مخالفین کا ساتھ دیا۔ حتیٰ کہ بات یہاں تک پہنچی کہ مخالفین نے اللہ تعالیٰ کے ان رسولوں کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جب یہ ہولناک خبر شہر کے مضافات میں پہنچی تو چونکہ شہر کے مختلف گوشوں میں دعوت کے ہمدرد بھی پیدا ہوچکے تھے انہیں میں سے ایک مخلص شخص جو ان رسولوں کی دعوت پر ایمان لا چکا تھا لیکن ابھی تک شہر کے کسی دور دراز گوشے میں اس مخالفت کا ہدف بنے بغیر خاموشی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی میں مصروف تھا۔ اس نے جب محسوس کیا کہ معاملہ خطرناک نقطے تک پہنچ گیا ہے تو وہ دعوت کے ساتھ اخلاص اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی حفاظت کے جوش میں نہایت تیزی سے بھاگتا ہوا وہاں پہنچا جہاں حق و باطل کا میدان گرم تھا۔ لوگ مخالفت میں دیوانہ ہورہے تھے اور مخالفین نے پوری طرح لوگوں کے جذبات میں آگ لگا رکھی تھی۔ اس مخلص شخص نے پہنچتے ہی لوگوں کو اس خطرناک اقدام سے روکنے کے لیے ان سے خطاب کیا اور انہیں رسولوں کے اتباع کی دعوت دی۔ ایک تو مرسلین کا لفظ ہی دعوت کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رسول دنیا میں اسی لیے آتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اسی کی اطاعت ہی میں لوگوں کے دین و دنیا کی بھلائی ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ چونکہ مخالفت میں اندھے ہورہے تھے اس لیے صرف دعوت پر اکتفا کرنے کی بجائے اس مخلص شخص نے دو دلائل بھی دیے۔ پہلی دلیل یہ دی کہ تم نے آج تک ان کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور تمہاری اذیت رسانی میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے ان عظیم بندوں کا حال یہ رہا کہ انھوں نے ہمدردی اور خیرخواہی کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ خونِ جگر پی پی کر انھوں نے تمہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔ اور تمہاری اندھی مخالفت اور بہیمانہ عداوت کے باوجود انھوں نے کبھی اخلاص کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ انتہائی بےغرض لوگ ہیں۔ اگر معاملہ ان کی اپنی ذات یا ان کے مفاد کا ہوتا تو وہ کبھی نہ کبھی اپنی ذات اور اپنے مفاد کو نقصان پہنچنے کے اندیشے سے پسپائی اختیار کرلیتے۔ لیکن انھوں نے کسی موقع پر بھی کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور ان کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے سوا کچھ نہیں۔ اور دوسری دلیل یہ دی کہ وہ صرف بےغرض ہی نہیں ہدایت یافتہ بھی ہیں۔ ان کی سیرت بالکل بےداغ ہے۔ کوئی شخص ان کی زندگی کے کسی شعبے پر اعتراض نہیں کرسکتا۔ انھوں نے زندگی کا ایک ایک لمحہ لوگوں کے سامنے گزارا ہے۔ لوگوں نے انہیں ہمیشہ الامین اور الصادق پایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص بےغرض بھی ہو اور نیک نیت بھی اور اس کی زندگی پاکیزگی کی تصویر ہو، آخر اس کی دعوت کو قبول کیوں نہ کیا جائے۔ اور اس کی مخالفت کرکے اپنی بدبختی کو دعوت کیوں دی جائے۔
Top