Ruh-ul-Quran - Yaseen : 18
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو
قَالُوْا طَـآئِرُکُمْ مَّعَکُمْ ط اَئِنْ ذُکِّرْتُمْ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 19) (رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ ) طَـآئِرُ کا مفہوم طَـآئِرُ فالِ بد کے معنی میں آتا ہے، لیکن یہاں اس سے مراد فالِ بد کا نتیجہ یعنی نحوست ہے۔ کبھی اسے نوشتہ تقدیر کے معنی میں بھی بول دیتے ہیں۔ رسولوں نے جواب دیا کہ تمہارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اسے تم دوسروں کی نحوست بتانے کی بجائے اپنے اندر تلاش کیوں نہیں کرتے۔ کیونکہ ہر انسان اپنے اعمال کے نتیجے اور اپنی قسمت کے احوال سے گزرتا ہے۔ تمہاری بدبختی کے اسباب خود تمہارے اندرموجود ہیں۔ تم اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں سے محظوظ ہوتے ہو۔ لیکن اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کے احسانات کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہو۔ نعمتیں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں اور اسی کی تخلیق کے نتیجے میں تم دنیا میں آئے ہو لیکن تم ان کا انتساب بجائے اپنے خالق ومالک کی طرف کرنے کے ان قوتوں کی طرف کرتے ہو جن کا ان احسانات سے کوئی تعلق نہیں۔ تمہاری نحوست درحقیقت تمہارے ان ہی عقائدِ بد اور اعمالِ سیئۃ کا نتیجہ ہے۔ تم بجائے اس کے کہ اس حقیقت کو سمجھو الٹا ان لوگوں کو مطعون کرتے ہو جو تمہیں اس صورتحال سے نجات دینے کے لیے آئے ہیں۔ تم بجائے اپنے گریبانوں میں منہ ڈالنے کے اپنے محسنوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈال رہے ہو۔ اور بجائے اپنی گمراہیوں کے سمجھنے کے دوسروں پر اپنی ذمہ داری ڈال رہے ہو۔ اکبر اِلٰہ آبادی نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کیسی خوبصورت بات کہی ہے : جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ آیت کے آخری حصے میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو اپنی شامت اعمال کا ذمہ دار اس لیے گردانتے ہو کہ انھوں نے تمہیں آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اب تمہارے احوال پر تنقید کرتے ہوئے تمہارے اصل امراض کی نشان دہی کی۔ بجائے اس کے کہ آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھو تم اسے توڑنے کے درپے ہوگئے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ تمہاری اس روش اور طرزعمل نے نہ صرف تمہاری فطرت کو بگاڑا اور اعمال کو تباہ کیا ہے بلکہ تمہاری فکری سلامتی کو بھی خطرناک حد تک متأثر کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جن حدود کو ملحوظ رکھ کر انسانیت کی پرورش کی جاتی ہے تم انہیں حدود کو بار بار پامال کررہے ہو اور تمہیں اس کا بالکل شعور نہیں۔
Top