Ruh-ul-Quran - Saad : 39
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ
ھٰذَا : یہ عَطَآؤُنَا : ہمارا عطیہ فَامْنُنْ : اب تو احسان کر اَوْ : یا اَمْسِكْ : روک رکھ بِغَيْرِ حِسَابٍ : حساب کے بغیر
یہ ہماری بےحساب بخشش ہے، پس احسان کرو یا روک لو
ھٰذَا عَطَـآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ وَاِنَّ لَـہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ ۔ (صٓ: 39، 40) (یہ ہماری بےحساب بخشش ہے، پس احسان کرو یا روک لو۔ یقینا اس کے لیے ہمارے پاس تقرب کا مقام اور بہترین مرجع ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی بڑی سے بڑی بخشش بھی اس کی دین ہے خاتمہ کلام پر پروردگار نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ تسخیرِعناصر اور شیاطین کا قبضے میں دینا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں جو آپ کی امیدوں اور توقعات سے کہیں بڑھ چڑھ کے ہیں۔ آپ نے کبھی خواب و خیال میں بھی اس کا تصور نہیں کیا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام پر کوئی قدغن نہیں۔ وہ اگر چاہے تو بےحساب بھی نوازتا ہے۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ وہ بڑی سے بڑی بخشش پر بھی یہ تصور دیتا ہے کہ یہ ہماری عطا، ہماری بخشش اور ہمارا کرم ہے، لینے والا پیغمبر بھی کیوں نہ ہو وہ اس استحقاق کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے مزید یہ فرمایا کہ ہمارے یہ انعام و اکرام کی بارش ایسی نہیں جس میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوسکے، بلکہ یہ سب کچھ آپ کے اختیار میں دے دیا ہے، آپ اس کے مالک ہیں، آپ کو اس پر پورا حق ملکیت حاصل ہے، آپ جسے چاہیں عطا کریں اور جس سے چاہیں ہاتھ روک لیں۔ آپ کے حق ملکیت کو کوئی چیلنج نہیں کرسکے گا۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ دنیا میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر عطا و بخشش کی جو بارش ہوئی ہے وہ تو یقینا بےمثال ہے لیکن یاد رہے کہ آپ نے یہ سب کچھ پا کر جب خودسری اور استکبار کا رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کے انعامات بڑھتے گئے، ویسے ویسے آپ کی عاجزی اور نیازمندی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ مقام قرب عطا فرمایا اور وہ بہترین مرجع دیا جس کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جس طرح استکبار سب سے مکروہ اور مبعوض عمل ہے، اسی طرح جو بندہ بڑائی اور عظمت کے سارے اسباب رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا کرتا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے بچھتا چلا جاتا ہے اسے وہ مقام قرب عطا ہوتا ہے جس کا تصور بھی اس بندے کے نزدیک شاید مشکل ہو۔
Top