Urwatul-Wusqaa - Al-Maaida : 69
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ
يٰٓاَيُّھَا : اے الرَّسُوْلُ : رسول بَلِّغْ : پہنچا دو مَآ اُنْزِلَ : جو نازل کیا گیا اِلَيْكَ : تمہاری طرف (تم پر مِنْ : سے رَّبِّكَ : تمہارا رب وَ : اور اِنْ : اگر لَّمْ تَفْعَلْ : یہ نہ کیا فَمَا : تو نہیں بَلَّغْتَ : آپ نے پہنچایا رِسَالَتَهٗ : آپ نے پہنچایا وَاللّٰهُ : اور اللہ يَعْصِمُكَ : آپ کو بچالے گا مِنَ : سے النَّاسِ : لوگ اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ لَا يَهْدِي : ہدایت نہیں دیتا الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ : قوم کفار
جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ مومن ہوں یا وہ لوگ جو یہودی اور صابی اور نصاریٰ ہیں کوئی ہو لیکن (اصل دین یہی ہے کہ) جو کوئی بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے گا اور اچھے کام کرے گا تو اس کے لیے نہ تو کسی قسم کا اندیشہ ہوگا نہ کسی قسم کی غمگینی
ایمان باللہ ، ایمان بالآ خرت اور اعمال کسی فردیا قوم کے لئے مختص نہیں : 185: زیر نظر آیت میں معمولی فرق کے ساتھ جو الفاظ کے آگے پیچھے ہونے سے ہوا ہے اس سے پہلے سورة البقرہ 2 : 62 میں گزر چکی ہے اور وہاں اس کی پوری تشریح کردی گئی۔ الفاظ کی تفسیر اور تفہیم مضمون دونوں کو بیان کردیا گیا ہے اور جو سیاق وسباق وہاں ہے وہی یہاں بھی ہے اس لئے اس کی وضاحت کے لئے تفسیر عروۃ الو ثقیٰ جلد اول ص 314 تا 332 ملاحظہ کریں۔
Top