Ruh-ul-Quran - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ذکر کرو جو قوت اور بصیرت رکھنے والے تھے
وَاذْکُرْ عِبٰـدَنَـآ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُوْلِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ۔ (صٓ: 45) (اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ذکر کرو جو قوت اور بصیرت رکھنے والے تھے۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت کے لیے چند عظیم پیغمبروں کا تذکرہ جس مقصد کو نمایاں کرنے کے لیے حضرت دائود، حضرت سلیمان اور حضرت ایوب (علیہم السلام) کا تذکرہ کیا گیا، اسی حوالے سے چند عظیم پیغمبروں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اسرائیلی سلسلہ رشد و ہدایت کے اصلی ستون ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تو اپنے دور کی دنیا میں امامت کا منصب حاصل رہا۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بیٹے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کے پوتے ہیں۔ انھوں نے ان علاقوں میں جہاں ان کو مبعوث کیا گیا تھا ہدایت اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ اور پھر انہی سے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا اور صدیوں تک رشد و ہدایت کا عَلَمانہی کے ہاتھ میں رہا۔ انہی میں پیغمبر پیدا ہوتے رہے اور انہی سے توحید کی امانت اس وقت کی دنیا کو میسر آتی رہی۔ اور وہ اپنے علم اور عمل کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی عبدیت اور اوَّابیت کے بہترین ترجمان تھے۔ ان کی جس نمایاں صفت نے ان کی زندگیوں کو دوسروں کے لیے مشعل راہ بنایا وہ یہ تھی کہ وہ ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے۔ ایدی، ید کی جمع ہے جس کا معنی ہے ہاتھ۔ اس سے عموماً قدرت و قوت مراد لی جاتی ہے۔ اور ابصار سے نگاہیں مراد لی جاتی ہیں۔ لیکن یہاں قوت وقدرت سے مراد عام قوت وقدرت نہیں بلکہ قوت عمل اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے مطلوب قوت مراد ہے۔ اور نگاہ سے مراد آنکھوں کی بینائی نہیں بلکہ دل کی بصیرت ہے۔ ان کی زندگی کا ہر فیصلہ اس بات پر گواہ ہے کہ وہ آنکھوں سے دیکھ کر نہیں بلکہ بصیرت کی نگاہ سے فیصلہ کرتے تھے۔ لوگوں کی نگاہ ہمیشہ اسباب پر رہتی ہے لیکن وہ مسبب الاسباب کی رضا کو دیکھتے تھے۔ اور جہاں تک قوت عمل کا تعلق ہے انھیں نہایت بدتر حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر چلنا اور حالات کے مطابق فریضہ نبوت کو ادا کرنا ہرگز گراں نہ تھا۔ وہ فقیر ہو کر بڑے سے بڑے امیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے، بڑے سے بڑا آستانہ اور طاقت اور توانائی کا مرکز انھیں اپنے سامنے جھکانے پر قادر نہ تھا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی طرح وہ جنگلی غذائوں سے پیٹ بھرتے تھے۔ لیکن بڑے سے بڑے حکمران کے دربار میں حق گوئی سے انھیں کوئی نہ روک سکتا تھا۔ طاقت کے سرچشموں سے معاملہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا تھا کہ ان سے بڑا طاقتور کوئی نہیں۔ دنیا اپنی ساری قوتوں کے باوجود کبھی انھیں ڈرانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ حالات کے تیور دیکھ کر ہر آدمی یہ اندازہ کرسکتا تھا کہ ان کی جلائی ہوئی شمع زیادہ دنوں تک چل نہ سکے گی۔ لیکن وہ بصیرت کی نظر سے جانتے تھے کہ حق ہمیشہ غالب رہنے کے لیے آتا ہے۔ بظاہر مغلوب دکھائی دیتا ہے لیکن وہ مغلوب کبھی نہیں ہوتا۔ ان کی یہی وہ صفت ہے جس نے قافلہ حق کو ہمیشہ توانائی بخشی ہے۔
Top