Ruh-ul-Quran - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں
اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُـہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَـہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط اِسْتَـکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (صٓ: 71 تا 74) (اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ تو جب میں اس کو درست کردوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ۔ پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ بجز ابلیس کے، اس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ ) اس بات کی تائید میں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ پر وحی کی جاتی ہے، حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابلیس کا ماجرا بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ ماجرا پیچھے بھی ایک سے زیادہ مرتبہ گزر چکا ہے اور وہاں پوری طرح اس کی تفصیل بیان کردی گئی ہے، بالخصوص سورة البقرۃ میں اس کے ایک ایک جزو کی وضاحت گزر چکی ہے اس لیے یہاں ہر بات کی وضاحت کی ضرورت تو نہیں البتہ یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ واقعہ یہاں کیوں لایا گیا ہے۔ اس واقعہ کے تذکرہ کے اسباب اس واقعہ کو یہاں لانے کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ آنحضرت ﷺ کا توحید پر اصرار تھا۔ لیکن مشرکین کسی طرح بھی اپنے مشرکانہ رویئے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ بہت سی مخلوقات میں عظمت و قوت کے مظاہر کو دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو ان سے پست سمجھتے تھے اس لیے ان کے سامنے جھکتے، استمداد کرتے اور بندگی بجا لاتے تھے۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے یہ واقعہ لا کر بتایا گیا ہے کہ تم حضرت آدم کی اولاد ہو۔ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سب سے پاکیزہ اور سب سے عزت والے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے سامنے جھکنے کا حکم دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے جدِامجد ملائکہ کے مسجود ہیں۔ اس لحاظ سے تمہیں ملائکہ پر بھی برتری حاصل ہے۔ رہیں باقی مخلوقات ان کا درجہ تو بہت بعد میں ہے۔ تو جب تم ملائکہ یا دوسری مخلوقات کے سامنے جھکتے ہو، انھیں اپنا مرجع و ماویٰ بنا کر اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو تو تم کس قدر غلطی کا ارتکاب کرتے ہو۔ کیا مسجود کبھی اپنے ساجد کے سامنے جھکتا ہے۔ کیا بہتر کہتر کے سامنے بندگی بجا لاتا ہے۔ تم کس قدر غلط فیصلے کرتے ہو۔ دوسری وجہ اس واقعہ کو لانے کی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہ کرنے کی ایک بہت بڑی وجہ مخالفین کے ہاں یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبوت کا تاج اس شخص کے سر پر رکھنا چاہیے جو دولت و ثروت کے لحاظ سے معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔ ہم لوگ اور ہمارے سردار چونکہ دولت و ثروت میں بہت بڑھے ہوئے ہیں اور نبوت کا دعویٰ کرنے والا دولت و ثروت دونوں سے تہی دامن ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ شخص جسے معاشرے میں عزت و عظمت حاصل ہے اور جسے اس کی امارت کے باعث بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے وہ اس غریب اور نادار آدمی کو نبی تسلیم کرلے جسے معاشرے میں کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ اس واقعہ کا آئینہ دکھا کر قریش سے کہا جارہا ہے کہ تم بھی تکبر اور نخوت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے رسول کی نبوت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہو۔ اور یہی وہ گھمنڈ اور استکبار ہے جس نے ابلیس کو حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھکنے سے روک دیا۔ اور اس کی پاداش میں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کا مستحق ٹھہرا۔ تم بھی اسی راستے پر چل کر اور ابلیس کی سنت کو دہرا کر یقینا اس انجام کی طرف بڑھ رہے ہو جو ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کا ہوا ہے۔ تم خود اندازہ کرسکتے ہو کہ تمہارا یہ رویہ کس قدر غلط ہے۔
Top