Tadabbur-e-Quran - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا۔ اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو، رسولوں کی پیروی کرو۔
وجاء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعوا المرسلین اتبعوا من لا یسئلکم اجرا وھم مھتدون (20۔ 21) اوپر آیت 4 1 میں جس تیسرے منذر کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی تائید حق کی تفصیل ہے۔ اوپر سورة اعراف کی آیت کے حوالہ سے ہم بیان کرچکے ہیں کہ ’ رجل ‘ سے مراد ہی مومن آل فرعون ہے جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ مومن میں ہوا ہے اور جس کی تقریر کا حوالہ ہم اوپر دے چکے ہیں۔ اس کا واضح قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ میں ان کا تعارف یہاں کرایا گیا ہے بعینہ انہی الفاظ میں سورة اعراف میں بھی کرایا گیا ہے۔ ’ جاء من اقصا المدینہ یسعی ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ان کی ہمدردی محض لفظی نہیں بلکہ عملا بھی۔ اپنے خس خانوں میں بیٹھے بیٹھے تو بہت سے لوگ کسی مقصد حق اور مرد حق کی تعریف و تحسین کردیتے ہیں لیکن ایسے افراد، بالخصوص امراء اور اغنیاء کے طبقہ میں بہت کم نکلتے ہیں جو عملاً اس حق کے لئے سرگرمی دکھائیں۔ لیکن اس مرد حق کا حال اس سے مختلف تھا۔ ان کا مکان شہر کے ایک بعید کنارے پر تھا۔ جیسا کہ لفظ اقصی سے واضح ہوتا ہے، لیکن جب کبھی انہوں نے یہ محسوس فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو کوئی خطرہ درپیش ہے تو وہ بھاگ کر جیسا کہ لفظ ’ یسعی ‘ سے واضح ہوتا ہے ‘ وہاں پہنچے ہیں اور اپنے تمام خاندانی مفادات بلکہ اپنی جان تک خطرے میں ڈال کر ان کے لئے سپر بن گئے ہیں۔ اسی طرح کے ایک موقع کا حوالہ قرآن نے یہاں دیا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہ وہی موقع ہے جب انہوں نے فرعون کے سامنے وہ تقریر فرمائی ہے جو پیچھے ہم نقل کر آئے ہیں۔ آگے کی آیات سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ ’ قال یقوم اتبعوا المرسلین ‘۔ یہ اس تقریر کا اجمالی حوالہ ہے جو انہوں نے فرعون اور اس کے اعیان کے سامنے کی ہے۔ ’ اتبعو المرسلین ‘ میں مرسلین ‘ سے ان کا اشارہ زمرہ مرسلین کی طرف ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کو بھی اصطلاحی مفہوم میں ایک رسول سمجھتے رہے ہوں۔ ان کے اس ارشاد میں اصلی زور اس بات پر ہے کہ قوم کے لوگوں کو فرعون، ہامان، قارون اور اس قسم کے مفسد لیڈروں کے پیچھے چلنے کے بجائے ان لوگوں کے پیچھے چلنا چاہیے جن کو خدا نے لوگوں کی رہنمائی کے لئے بھیجا ہے یا جو لوگ ان کا ساتھ دے رہے اور ان کی پیروی کر ہے ہیں۔ ’ اتبعوا من لا ئسئلکم الایۃ ‘ یہ رسولوں کی پیروی کے حق میں دو دلیلیں ہیں۔ ایک یہ ہے ان رسولوں کا اس دعوت کے ساتھ کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہے بلکہ وہ ہر غرض سے بالا تر ہو کر محض خلق کی ہدایت کے لئے یہ سارے دکھ جھیل رہے ہیں۔ برعکس اس کے دوسرے لیڈر جو اس دعوت حق کی مخالفت کر رہے ہیں وہ محض اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ دوسری دلیل انہوں نے یہ دی کہ ’ وھم مھتدون ‘۔ یہ رسول بےغرض ہونے کے ساتھ ساتھ ہدایت پر بھی ہیں۔ اس دلیل سے یہ بات نکلتی ہے کہ بےغرضی ایک شخص کی نیک نیتی کی شہادت تو ضرورت ہے لیکن مجرد نیک نیتی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ وہ حق پر بھی ہے۔ اس وجہ سے کسی شخص کی نیک نیتی اور بےغرضی کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کی بات عقل و منطق کے معیار پر بھی پوری اترتی ہے یا نہیں۔ اگر وہ بےغرض بھی ہے اور اس کی دعوت عقل و مطنق کی رو سے بھی صحیح ہے تو اس کی پیروی نہ کرنا بدبختی ہے۔
Top