تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ﴿19﴾
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- طَآئِرُكُمْتمہاری نحوست
- مَّعَكُمْ ۭتمہارے ساتھ
- اَئِنْکیا
- ذُكِّرْتُمْ ۭتم سمجھائے گئے
- بَلْبلکہ
- اَنْتُمْتم
- قَوْمٌلوگ
- مُّسْرِفُوْنَحد سے بڑھنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس چیز کو تم نے نحوست سمجھا کہ تمہیں یاد دہانی کی گئی ! بلکہ تم خود حدود سے گزر جانے والے لوگ ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قالوا طرئیکم معکم این ذکرتھم بل انتم قوم مسرفون (19)
لفظ طائر کی تحقیق بھی اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے معنی نحوست کے ہیں۔ یہ ان رسولوں کا جواب ہے کہ تم اپنی بدبختی کے اسباب دوسروں کے اندر ڈھونڈتے ہو حالانکہ تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ ہے۔ یہ جو کچھ پیش آرہا ہے تمہارے اپنے ہی عقائد و اعمال کا نتیجہ ہے اس وجہ سے دوسروں کو ملزم ٹھہرانے کے بجائے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو اور اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لو۔
’ ائن ذکرتم ‘ یعنی تم ہمیں جو منحوس ٹھہرا رہے ہو تو کیا اس گناہ میں کہ ہماری طرف سے تم کو یاددہانی کی گئی اور نیک و بد سے آگاہ کیا گیا ہے !
’ برانتم قوم مرفون ‘ یعنی یہ تمہاری سرکشی و بدبختی کی انتہا ہے کہ خدا کے حدود کو توڑ کر اپنے لئے خطرات کو دعوت دیتے ہو پھر خدا کے جو بندے تمہیں ان خطرات سے آگاہ کرتے ہیں ان کے شکر گزار ہونے کے بجائے اُلتے انہی کو ان خطرات کا سبب قرار دیتے ہو۔